اقوام متحدہ کے منشور کو ایک سخت امتحان کا سامنا ہے

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیرسعید ایروانی نے کہا ہے کہ اس وقت اقوام متحدہ کے منشور کو ایک سخت امتحان اور اس کے طور طریقوں کے غلط استعمال کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اس سخت امتحان میں اپنی غیرجانبداری اور مؤثر کردار پر مبنی ذمہ داری کو نبھانا ہوگا۔

امیرسعید ایروانی نے کہا کہ اس ادارے کے کسی بھی رکن کو، چاہے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ سلامتی کونسل اور اس کے قوانین کو اپنی یکطرفہ پالیسیوں اور مکاریوں کے لیے استعمال کرسکے۔

انہوں نے 13 جون 2025 کو ایران پر امریکہ کی براہ راست حمایت اور مداخلت کے ساتھ صیہونی حکومت کی وسیع جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل نے اس جارحیت کے خلاف خاموشی اختیار کرلی جو کہ ایک ایسی بڑی غلطی ہے جس سے جارح ملکوں کو مزید دہشت گردی کی جرات ملتی ہے اور اقوام متحدہ کا منشور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔

امیرسعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اختیارات سے ایٹمی معاہدے کے رکن تین یورپی ملکوں کے غلط استعمال کو بھی دوسری بڑی تشویش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ٹرائیکا نے امریکہ کے دباؤ اور نگرانی کے تحت غیرقانونی طریقے سے اسنیپ بیک کو فعال کرنے کا دعوی کیا تا کہ سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کو پھر سے بحال کرسکے جنہیں سن 2015 میں ہٹا دیا گیا تھا۔

امیرسعید ایروانی نے کہا کہ یہ ایک سیاسی اور دشمنی پر مبنی اقدام تھا جسے سلامتی کونسل کے دو مستقل اور کئی دیگر ارکان اور ناوابستہ تحریک کے رکن 121 ممالک نے مسترد کردیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقوام متحدہ اپنے اصولوں پر صداقت اور غیرجانبداری کے ساتھ عمل کرنے میں بے بسی میں دوچار ہے جس کی ایک واضح علامت ناجائز حملوں کو سزا دیے بغیر چھوڑ دینا اور یکطرفہ پالیسیوں کو ہوا دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کیفیت کے نتیجے میں اقوام متحدہ کا منشور بے معنی اور سلامتی کونسل کا اعتبار ختم ہوجائے گا۔

Scroll to Top