اسلام247: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ 27 اکتوبر کو ہونے والے مالیاتی پالیسی اجلاس میں شرحِ سود میں کمی کا امکان نہیں، کیونکہ مہنگائی کے غیر یقینی رجحانات اور آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات اس فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ 27 اکتوبر کو ہونے والے مالیاتی پالیسی اجلاس میں شرحِ سود میں کمی کا امکان نہیں، کیونکہ مہنگائی کے غیر یقینی رجحانات اور آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات اس فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
امریکی مالیاتی جریدے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کسی قسم کی تبدیلی کا انحصار آئی ایم ایف مذاکرات کے نتائج اور حالیہ سیلاب کے معاشی اثرات پر ہوگا۔
مہنگائی 2026 کے آغاز تک ہدف سے اوپر رہنے کا امکان
جمیل احمد نے کہا کہ مہنگائی عارضی طور پر 2026 کے اوائل میں اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے ہدف (5 تا 7 فیصد) سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم موجودہ اور آئندہ مالی سال میں اوسطاً یہ اسی دائرے میں رہنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ریاض اور اسلام آباد کے درمیان اقتصادی شراکت داری، کمیٹی مذاکرات کی نگرانی کرے گی
تجزیہ کاروں اور معاشی ماہرین کے مطابق، شرحِ سود میں کمی کا امکان کم ہے کیونکہ ستمبر میں مہنگائی 3 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
یہ اضافہ زیادہ تر سیلاب سے پیدا ہونے والے سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ہوا، جب کہ مرکزی بینک اب بھی معاشی استحکام کو قلیل مدتی نمو پر ترجیح دے رہا ہے۔
ایس بی پی کی احتیاطی حکمتِ عملی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پچھلے 3 سالوں میں انٹربینک مارکیٹ سے تقریباً 20 ارب ڈالر خرید کر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا گیا — یہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا تاکہ بیرونی خطرات کے مقابلے میں مالیاتی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ اقدام نہ کیا جاتا تو ملکی کرنسی اور ادائیگیوں کی پوزیشن مختلف اور کمزور ہوتی۔
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ مالی سال 2026 میں 2.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو ساختی چیلنجز اور جاری اصلاحات کے باعث محدود تصور کی جا رہی ہے۔
ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے لیے امریکی منڈی میں موقع
گورنر جمیل احمد نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے لیے امریکی خریداروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے، اگرچہ ان کی مصنوعات پر 19 فیصد ٹیرف عائد ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی مصنوعات پر امریکا میں 50 فیصد ٹیرف ہونے کے باعث پاکستان کے لیے برآمدات بڑھانے کے مواقع موجود ہیں، لیکن مقامی پیداوار کی بلند لاگت اس موقع سے مکمل فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
برآمدکنندگان کے مطابق، توانائی اخراجات اور ٹیرف کے دباؤ کے باعث پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی مسابقت کم ہو رہی ہے، اور اس صورتحال میں پالیسی سپورٹ انتہائی ضروری ہے۔