اسلام247: فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے طوفان الاقصی کی دوسری سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ بیان میں ایران کے غزہ کی حمایت میں کردار کو سراہا اور صہیونی دشمن کے خلاف جاری مزاحمت کو تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دو سال میں سفاک ترین نسل کشی کا سامنا رہا، جو صہیونی دشمن نے فلسطینی عوام کے خلاف، عالمی برادری کی خاموشی اور لاپروائی میں کی۔ اس دوران دشمن اور اس کے اتحادی اپنے اہداف میں ناکام رہے، جن میں مزاحمت کو ختم کرنا اور صہیونی قیدیوں کو زبردستی واپس لانا شامل تھا۔
مزاحمتی گروہوں نے کہا کہ طوفان الاقصی کی لازوال لڑائی، جو 7 اکتوبر 2023 سے جاری ہے، صہیونی سازشوں کے خلاف ایک فطری جواب تھی اور اس نے دشمن کی تمام جھوٹ اور پروپیگنڈے بے نقاب کیے۔ انہوں نے اس لڑائی میں فلسطینی عوام کی استقامت کو ایک مضبوط پتھر سے تشبیہ دی، جس پر دشمن کی تمام شیطانی سازشیں ٹوٹ گئیں۔
بیان میں زور دیا گیا کہ مزاحمت، غاصب صہیونی ریجیم کے خلاف واحد راستہ ہے۔ کوئی بھی فلسطینی عوام سے ان کا ہتھیار نہیں چھین سکتا کیونکہ یہ ہتھیار جائز اور قانونی ہیں۔ اسے فلسطین کی آزادی اور مقدسات کے تحفظ تک نسل در نسل منتقل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: طوفان الاقصی کی دوسری سالگرہ: حماس کی مزاحمت اور فلسطینی قربانیوں کی داستان
مزاحمتی گروہوں نے عربی اور اسلامی ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر دارالحکومت اور شہر میں سڑکوں پر نکلیں، فلسطین کی حمایت کریں، مزاحمت اور فلسطینی عوام کی مدد کا نعرہ بلند کریں اور صہیونی جرائم و نسل کشی کی مذمت کریں۔
بیان میں یمن، لبنان، عراق اور ایران سمیت تمام حمایتی محاذوں کی تعریف کی گئی اور سید حسن نصر اللہ، سید ہاشم صفی الدین، جنرل باقری، جنرل سلامی، جنرل رشید اور جنرل ایزدی سمیت تمام شہداء کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
بیان کے آخر میں طوفان الاقصی کے کمانڈروں خصوصاً اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار، اور محمد ضیف کے لیے دعا طلب کی گئی، اور تمام مزاحمتی گروہوں کے رہنماؤں کی قربانیوں کو تاریخ میں محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا گیا۔