یمن: حماس کا ردِ عمل جنگ و قحط رکوانے کی ذمہ دارانہ کوشش ہے

اسلام247: یمن کی تنظیم انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے حماس کے ٹرمپ امن منصوبے پر دیے گئے جواب کو ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ردعمل جنگ و قحطی روکنے اور غزہ کی حمایت کے لیے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حماس کا ہوشمندانہ ردعمل: ٹرمپ کے امن منصوبے کی خامیوں پر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ

الفرح نے کہا کہ حماس کا موقف فلسطینی قومی اتحاد اور ثابت شدہ اصولوں کا تحفظ کرتا ہے، ساتھ ہی یہ ایک قابلِ عمل اور لچکدار حل پیش کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ پر حملوں اور تجاوزات کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یمن کی مسلح افواج نے بھی حماس اور جہاد اسلامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی تفصیلات میں مداخلت نہیں کریں گے کیونکہ اس کا فیصلہ متعلقہ جماعتوں کا حق ہے، البتہ یمن اپنے پہلے سے طے شدہ عہد پر قائم رہے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ یمن کی طرف سے شروع کی گئی عسکری کارروائیاں صرف حماس کی درخواست پر ہی رکیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس سمیت تمام مزاحمتی گروہوں کے بارے میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہماری تقدیر مشترک ہے، اسی لیے ہم فتح یا شہادت تک ان کے ساتھ ہیں۔

Scroll to Top