اسلام247: یورپ کے بڑے شہروں میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف ہزاروں افراد مظاہرے کر رہے ہیں، جن میں برطانیہ، اٹلی، اسپین اور پرتگال کے بڑے شہری مراکز میں ریلیاں جاری ہیں۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق، اسپین کے دوسرے بڑے شہر بارسلونا اور میڈرڈ میں مظاہرے کئی ہفتے قبل ہی شیڈول کیے گئے تھے، جبکہ روم اور لزبن میں احتجاجی کال اُس وقت دی گئی جب اسرائیلی افواج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر 450 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی اپیل کے باوجود اسرائیلی بمباری تیز، درجنوں فلسطینی شہید و زخمی
گرفتار افراد میں 40 سے زائد ہسپانوی شہری شامل ہیں جن میں بارسلونا کے سابق میئر بھی موجود ہیں۔ اٹلی میں 3 اکتوبر کو ایک روزہ عام ہڑتال کے دوران ملک بھر میں 20 لاکھ سے زائد افراد نے غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسپین میں حالیہ ہفتوں میں فلسطینیوں کی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسپینش حکومت نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف سفارتی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی ملکیتی سائیکلنگ ٹیم کے خلاف احتجاج کے باعث ولاٹا سائیکلنگ ایونٹ کئی بار روکنا پڑا۔ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیلی مظالم کو “نسل کشی” قرار دیتے ہوئے اسرائیلی ٹیموں پر بین الاقوامی مقابلوں سے پابندی کا مطالبہ کیا۔
یورپ میں یہ مظاہرے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے چند نکات تسلیم کرنے کا عندیہ دیا، تاکہ دو سالہ جنگ کا خاتمہ ہو سکے جس میں 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
بارسلونا کے ٹاؤن ہال کے مطابق، پولیس نے بتایا کہ آج ہونے والے مظاہرے میں تقریباً 70 ہزار افراد شریک ہوئے۔ مرکزی شاہراہ پاسئیگ دے گراسیا عوام سے بھر گئی۔ خواتین، بچے اور بزرگ فلسطینی پرچم اٹھائے یا فلسطین کے حق میں ٹی شرٹس پہنے شریک ہوئے۔ بینرز پر لکھا تھا: “غزہ مجھے دکھ دیتا ہے”، “نسل کشی بند کرو” اور “فلوٹیلا کو نہ روکو”۔
63 سالہ ماریا جیسس پارا، فلسطینی پرچم اٹھائے ایک گھنٹے کا سفر طے کر کے بارسلونا پہنچی۔ ان کا کہنا تھا: “ہم ایک نسل کشی کو براہِ راست اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں، اور یورپ خاموش تماشائی بنا ہے۔”
لندن میں گرفتاریاں
روم میں بھی احتجاج جاری ہے، جسے 3 فلسطینی تنظیموں نے مقامی یونینز اور طلبہ کے تعاون سے منظم کیا۔ مظاہرین پورٹا سان پاؤلو سے مارچ شروع کر کے سان جیووانی تک پہنچے۔ پولیس کے مطابق، ہزاروں افراد شرکت کر رہے ہیں۔
لندن میں بھی فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت میں احتجاج جاری ہے۔ پولیس نے مانچسٹر کی ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد مظاہرے کو مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن منتظمین نے اسے مسترد کر دیا۔ پولیس نے ٹرافلگر اسکوائر سے 175 مظاہرین کو گرفتار کیا، جبکہ شرکا “شرم کرو” کے نعرے لگا رہے تھے۔
یہ مظاہرہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی کے خلاف تھا۔
ڈبلن اور ایتھنز میں احتجاج
ڈبلن میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور آئرش حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق، اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 16 آئرش شرکا کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
ایتھنز میں بھی 4 اکتوبر کی دوپہر ہزاروں مظاہرین فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے ریلیوں میں شریک ہوئے۔