افغانستان میں بڑے پیمانے پر کمیونیکیشن بلیک آؤٹ، طالبان کا انٹرنیٹ پر کریک ڈاؤن

اسلام247 : افغانستان بھر میں بڑے پیمانے پر کمیونیکیشن سروسز کا بلیک آؤٹ رپورٹ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر متعدد صوبوں میں “غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے” کے لیے فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے سیکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’نیٹ بلاکس‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس وقت پورے افغانستان میں ٹیلی کام سروسز کی بندش ہے۔

نیٹ بلاکس کے مطابق: “ہم اس وقت قومی سطح پر رابطے معمول کے مقابلے میں صرف 14 فیصد پر ہیں۔” واچ ڈاگ نے مزید کہا کہ یہ صورتحال “سروسز کے جان بوجھ کر منقطع کیے جانے” سے مطابقت رکھتی ہے۔

اے ایف پی کا کابل میں اپنے دفتر سے رابطہ تقریباً شام 6 بج کر 15 منٹ (پاکستانی وقت 6:45) پر کٹ گیا، جس میں موبائل فون سروس بھی شامل تھی۔

افغان طالبان حکام نے اس ماہ کے آغاز میں انٹرنیٹ تک رسائی پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور کئی صوبوں میں کنکشن کاٹ دیے تھے۔ یہ اقدام طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر کیا گیا تھا، جس سے کئی علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہوگیا۔

صوبائی ترجمان عطا اللہ زید نے 16 ستمبر کو کہا تھا کہ صوبہ بلخ میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کو لیڈر کے حکم پر مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ فیصلہ “غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے” کے لیے کیا گیا ہے اور حکام اب متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

اے ایف پی کے نمائندوں نے بتایا کہ شمالی صوبوں بدخشاں اور تخار، اسی طرح جنوبی صوبوں قندھار، ہلمند، ننگرہار اور ارزگان میں بھی یہی پابندیاں نافذ ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں میں انٹرنیٹ کنکشن انتہائی سست یا وقفے وقفے سے چل رہے تھے۔ یاد رہے کہ اس کے برعکس 2024 میں کابل حکومت نے 9 ہزار 350 کلومیٹر پر مشتمل فائبر آپٹک نیٹ ورک کو “ترجیح” قرار دیا تھا تاکہ ملک کو دنیا سے قریب لایا جا سکے اور غربت سے نکالا جا سکے۔

Scroll to Top