حزب اللہ کے شیخ نعیم قاسم: ہم وعدے پر قائم رہیں گے — ہتھیار نہیں ڈالے گے

اسلام247 : بیروت میں شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کی پہلی برسی کے موقع پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل کے معاون شیخ نعیم قاسم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وعدے پر قائم ہیں جو ہم نے شہید نصراللہ سے کیا تھا اور ان کے راستے کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے شہداء کو تمغۂ شہادت کی مبارکباد بھی پیش کی۔

شیخ نعیم قاسم نے مقاومت کے دوٹوک موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سید حسن نصراللہ کی شہادت ایک دردناک واقعہ تھا، تاہم ان کی رہنمائی اور موجودگی آج بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نصراللہ کو ایک مثالی قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خطے کی صورتِ حال بدل دی اور آزاد انسانوں کے لیے مشعل راہ بنے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک نصراللہ کے پیروکار اپنے وعدے پر قائم ہیں، دشمن کو چین و سکون نصیب نہیں ہوگا۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ انہوں نے تین دہائیوں تک شہید نصراللہ کے ساتھ کام کیا اور انہیں ایک مضبوط عزم کے مالک، نرم دل اور عمیق فہم کے حامل قائد پایا۔ ہم ان کے مشن پر قائم رہیں گے اور ہتھیار زمین پر نہیں رکھیں گے۔

انہوں نے شہید سید ہاشم صفی الدین اور دیگر شہداء کا ذکر کیا اور کہا کہ ان میں کمانڈر علی کرکی بھی شامل تھے، جن کا نام جنوبی لبنان اور مختلف محاذوں پر مشہور ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ہم ایک ایسی عالمی سازش کا مقابلہ کر رہے ہیں جس کا مقصد فلسطین، لبنان اور پورے خطے میں مقاومت کو ختم کرنا ہے۔ دشمن نے حزب اللہ کی قیادت اور کئی کمانڈروں کو شہید کیا، مگر ہمارا موقف مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اولی الباس” کی جنگ میں دشمن کی پیش قدمی کو روکا گیا اور 23 ستمبر سے شروع ہونے والی اس کشیدگی میں 64 دن تک مزاحمتی کارروائیاں جاری رہیں۔

یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی زندگی، جدوجہد اور شہادت

انہوں نے بتایا کہ عوام سرحدی دیہاتوں کی مشکلات کے باوجود مزاحمت پر قائم ہیں — اسی مزاحمت نے 400 گھروں کی مرمت، بلدیاتی انتخابات میں کامیابی اور سیاسی میدان میں استحکام ممکن بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بیروت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو پانچ علاقوں سے پیچھے ہٹنے نہ دیا جائے، حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے اور اسرائیل کی جنگ کو جائز قرار دیا جائے؛ مگر ہم ایسی شرائط قبول نہیں کریں گے۔

شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا دراصل اسرائیل کے مقاصد کو پورا کرنا ہوگا اور وہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم کربلا کی طرز پر مزاحمت کریں گے اور ہر سازش کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے لبنانی حکومت سے اپیل کی کہ تعمیر نو کے لیے بجٹ مختص کیا جائے اور چار بنیادی نکات کو ترجیح دی جائے: جنگ کا خاتمہ، مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کا انخلاء، قیدیوں کی آزادی، اور تعمیر نو کا آغاز۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو قومی خودمختاری کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے اور اسرائیلی قبضے کے خلاف عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ حزب اللہ قومی وحدت، استحکام کی بحالی اور ہر شعبے میں کام جاری رکھنے کی حمایت کرتی ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ہمیں دشمن کی دھمکیوں سے مرعوب ہونے کے بجائے تیاری کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے اور طائف معاہدے کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ فوج کے ساتھ ہیں بشرطیکہ فوج دشمن کے خلاف فعال ہو۔

فلسطین کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور غزہ و فلسطین کے مجاہدین قابضین سے لڑ کر امت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اسرائیل دو سال کے مظالم کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ شیخ نعیم قاسم نے امام موسیٰ صدر کے آغاز کردہ منصوبے کی کامیابی کی توقع ظاہر کی اور حزب اللہ و حرکت امل کے درمیان وحدت کو سراہا۔

آخر میں انہوں نے ملتِ مقاومت، زخمیوں، قیدیوں اور شہداء کے اہل خانہ کو سلام پیش کیا اور کہا کہ شہداء کے خون کی برکت سے دشمن اس زمین سے باہر ہو جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ زمین اس کے اصل باشندوں کی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت عوام کو شکست نہیں دے سکتی — “ہم وعدے پر قائم ہیں” ان کا اس برس کا نعرہ ہوگا۔

Scroll to Top