اسلام247 : امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی کارروائیوں اور “اسنیپ بیک” میکانزم کے نفاذ کا براہِ راست ذکر کیے بغیر دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے کا منتظر ہے۔
انہوں نے کہا: “ایران کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پابندیاں اور دیگر محدودیتیں مشرقی امریکہ کے وقت کے مطابق رات 8 بجے سے دوبارہ نافذ ہو گئی ہیں۔”
روبیو کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ سفارت کاری اب بھی میز پر موجود ہے اور ایک معاہدہ ایرانی عوام اور دنیا کے لیے بہترین نتیجہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو قبول کرے اور وقت ضائع کرنے یا ابہام پیدا کرنے سے گریز کرے۔
یہ بھی پڑھیں : روسی وزارتِ خارجہ نے یورپی تروییکا کے ایران پر پرانی پابندیاں بحال کرنے کے اقدام کو فریب کاری قرار دے دیا
اس سے قبل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی دباؤ کے باوجود روس اور چین کی اُس قرارداد کو مسترد کر دیا تھا، جس کا مقصد قرارداد 2231 (ایران کے جوہری معاہدے کی توثیق کرنے والی قرارداد) میں توسیع تھا۔
یاد رہے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے (برجام) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا، حالانکہ امریکہ نے 2018 میں یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور یورپی فریقین بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کے باوجود یورپی ممالک نے امریکہ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر 30 روزہ “اسنیپ بیک” میکانزم کو فعال کرنے کا عمل شروع کیا۔