حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی زندگی، جدوجہد اور شہادت

اسلام247: سید حسن نصراللہ، جنہیں دنیائے عرب اور عالمِ اسلام میں “سید مقاومت” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، حزب اللہ لبنان کے تیسرے اور سب سے طویل عرصے تک رہنے والے سربراہ تھے۔ انہوں نے 1992 سے 2024 تک قیادت سنبھالی اور حزب اللہ کو ایک قومی جماعت سے نکال کر ایک خطے کی مزاحمتی طاقت میں بدل دیا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

سید حسن نصراللہ 31 اگست 1960 کو مشرقی بیروت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی تعلیم لبنان میں حاصل کی، پھر نجف گئے، مگر بعثی حکومت کے دباؤ کے باعث واپس آنا پڑا۔ بعدازاں قم میں تعلیم جاری رکھی، جہاں امام خمینیؒ کے انقلابی افکار سے متاثر ہوئے اور فارسی زبان پر عبور حاصل کیا۔ یہی وہ دور تھا جب وہ امام خمینیؒ کے نمائندے کی حیثیت سے لبنان میں سرگرم ہوئے۔

سیاسی سفر اور حزب اللہ میں شمولیت

 سال (1975) میں انہوں نے شیعہ تنظیم حرکت امل سے سیاسی سفر کا آغاز کیا، مگر 1982 میں اسرائیلی جارحیت کے بعد چند علماء کے ساتھ مل کر حزب اللہ کی بنیاد رکھی۔ لبنان میں شیعہ قوت کے ابھار کا بیج امام موسیٰ صدر نے بویا تھا، جسے سید حسن نصراللہ اور ان کے رفقاء نے حزب اللہ کے قیام سے مزید مضبوط کیا۔

 سال (1992)میں سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد حسن نصراللہ حزب اللہ کے سربراہ منتخب ہوئے۔ ان کی قیادت نے نہ صرف حزب اللہ کو منظم کیا بلکہ اسرائیل اور مغربی منصوبوں کے خلاف ایک بھرپور مزاحمتی قوت بنا دیا۔

اسرائیلی جارحیت کے خلاف کامیابیاں

سال 2000: 22 سالہ اسرائیلی قبضے کے بعد جنوبی لبنان کو آزاد کرایا۔

سال 2004: لبنانی قیدیوں کی رہائی اور شہداء کی باقیات کی واپسی ممکن بنائی۔

سال 2006: 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کو تاریخی شکست دی۔

ان کامیابیوں کے بعد انہیں عرب دنیا کا سب سے مقبول، باہمت اور بااثر مزاحمتی رہنما قرار دیا گیا۔

ایران اور مزاحمتی محور سے وابستگی

سید نصراللہ نے ہمیشہ خود کو رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا پیروکار اور سپاہی کہا۔ 1986 سے ان کے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ وہ شہید قاسم سلیمانی اور شہید حسین امیرعبداللهیان جیسے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، جن کے ذریعے مزاحمتی محور مضبوط ہوا۔ چاہے فلسطین ہو، شام میں داعش کے خلاف جنگ یا لبنان کی سرحدیں — حزب اللہ ہمیشہ اگلی صف میں رہا۔

شہادت اور عالمی سوگ

27 ستمبر 2024 کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ پر فضائی حملہ کیا، جس میں سید حسن نصراللہ شہید ہو گئے۔ صہیونی ذرائع نے اعتراف کیا کہ اس حملے کے لیے 80 ٹن وزنی بم استعمال کیے گئے۔

ان کا جنازہ بیروت میں لاکھوں افراد اور دنیا کے 79 ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوا۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں “مجاہدِ کبیر” اور “مزاحمت کا پیشرو” قرار دیا۔

وراثت اور اثرات

سید حسن نصراللہ کا نام آج بھی استقامت، مزاحمت اور عزت کا استعارہ ہے۔ ان کی شہادت اختتام نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوئی، جو خطے کی سیاست اور امتِ مسلمہ کی مزاحمتی فکر کو ہمیشہ رہنمائی فراہم کرے گا۔

Scroll to Top