اسلام247 : امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے اگلے ہفتے ورجینیا کے کوانٹیکو میں دنیا بھر سے سینئر فوجی افسران کو اجلاس کے لیے طلب کر لیا ہے، جسے غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ ہیگسیتھ نے اتنے کم نوٹس پر اعلیٰ افسران کو ایک جگہ کیوں بلایا ہے۔ دو عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس اچانک طلبی نے متوقع شرکاء کے درمیان بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
بعض افسران ہزاروں فوجیوں کی کمان کرتے ہیں اور ان کے شیڈول کئی ہفتے پہلے طے ہوتے ہیں، لیکن اب انہیں فوری طور پر اپنی منصوبہ بندی بدلنی پڑ رہی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ “لوگ بھاگ دوڑ کر رہے ہیں کہ آیا انہیں شرکت کرنی ہے یا نہیں”۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ سینئر افسران کا ایک کمرے میں ہونا ’نایاب‘ تصور کیا جاتا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پرنیل نے صرف اتنا کہا کہ وزیرِ جنگ آئندہ ہفتے کے آغاز میں اپنے فوجی رہنماؤں سے خطاب کریں گے۔ تاہم اس بارے میں وضاحت نہیں کی گئی کہ اجلاس کا مقصد کیا ہے اور کتنے افسر شریک ہوں گے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر “محکمہ جنگ” رکھنے کا حکم دیا ہے، جس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اس نوعیت کا اجلاس غیر معمولی نہیں ہے۔
امریکی افواج دنیا کے مختلف خطوں بشمول جنوبی کوریا، جاپان اور مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں، اور ان کی کمان 2، 3 اور 4 اسٹار جرنیلوں اور ایڈمرلز کے پاس ہے۔ ایک عہدیدار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ شاید اتنا ہی معمولی ہو جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں، لیکن وضاحت کی کمی کسی کے لیے مددگار نہیں۔”