اسلام247 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت سے جنگ جیت چکے ہیں، اب ہم امن کے خواہاں ہیں اور پاکستان تمام حل طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انتونیو گوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا آج پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی کھلے عام ہو رہی ہے، انسانی بحران بڑھتے جا رہے ہیں اور دہشت گردی اب بھی بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جبکہ موسمی تبدیلیاں انسانی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ ملٹی لیٹرل ازم اب آپشن نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بانی پاکستان کے وژن کے مطابق امن، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہے۔ ہم سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال اسی فورم پر کہا تھا کہ پاکستان جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا اور بھارت کی بلااشتعال کارروائی پر پاکستان نے اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا۔
شہباز شریف کا فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر عالمی برادری سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں بھارت کو بھرپور جواب دیا اور سات بھارتی طیارے تباہ کیے۔ تاہم برتری کے باوجود پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی پر رضامند ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں دوست ممالک چین، ترکیہ، یو اے ای، سعودی عرب، ایران، قطر، آذربائیجان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ بھی ادا کیا۔
کشمیر اور سندھ طاس معاہدہ
وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش ناقابل قبول ہے، پاکستان اپنے عوام کے پانیوں کے حق کا دفاع کرے گا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام ایک دن اقوام متحدہ کی نگرانی میں حق خودارادیت حاصل کریں گے۔
فلسطین پر دوٹوک مؤقف
وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، بچے اور عورتیں نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے 6 سالہ ہند رجب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ کے سب سے المناک سانحات میں سے ایک ہے۔ شہباز شریف نے فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ریاست کا دارالحکومت یروشلم ہونا چاہیے۔
افغانستان اور خطے کے حالات
وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کا امن خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔ افغان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی اور اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔ انہوں نے ہندوتوا اور اسلاموفوبیا کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا۔
موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان
وزیراعظم نے کہا کہ 2022 کے سیلاب میں پاکستان کو 34 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس سال بھی شدید سیلاب نے ہزاروں دیہات متاثر کیے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی مدد کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا حصہ عالمی گلوبل وارمنگ میں ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
معیشت اور اصلاحات
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور کرپٹو جیسے اقدامات مستقبل کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے عالمی گورننس اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔