وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور اردوان ملاقات — ایف-35 ڈیل اور روسی تیل پر گفتگو

اسلام247 : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں کہا ہے کہ ترکی کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ روس سے تیل اور گیس نہ خریدے۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترک صدر واشنگٹن ڈی سی پہنچے جہاں وائٹ ہاؤس میں ان کی امریکی ہم منصب سے ملاقات ہوئی۔ اردوان کے اس دورے کا اہم مقصد امریکا سے ایف-35 فائٹر جیٹ طیاروں کے حصول پر گفت و شنید ہے۔

ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں امریکا نے ترکی کو ایف-35 پروگرام سے اس وقت خارج کر دیا تھا جب ترکی نے روس سے ایس-400 میزائل سسٹم خریدا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اس سے طیاروں کی حساس معلومات روس تک پہنچ سکتی ہیں۔

اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر ٹرمپ نے کہا کہ “انہیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، ہمیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، اور ہم کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔” انہوں نے اشارہ دیا کہ دن کے اختتام تک پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اردوان پر زور دیا کہ ایف-35 طیاروں کی ڈیل کے لیے ترکی کو روس سے تیل اور گیس خریدنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ “اردوان کو پوتن اور زیلنسکی دونوں احترام دیتے ہیں، اور اگر وہ چاہیں تو روس-یوکرین جنگ بندی میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔”

اردوان نے واضح کیا کہ وہ ایف-35 طیاروں پر پابندی ختم ہوتے دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور ٹرمپ سے کہا کہ وہ اس مسئلے پر تفصیل سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ 2019 کے بعد ترک صدر کا وائٹ ہاؤس کا پہلا دورہ ہے۔

Scroll to Top