بھارت اکتوبر کے اوائل میں ’کولڈ اسٹارٹ‘ مشترکہ مشق کرے گا — ڈرون و کاؤنٹر ڈرون ٹیسٹنگ کلیدی عنصر

اسلام247 : بھارت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ’کولڈ اسٹارٹ‘ مشترکہ مشق کرے گا — ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون نظام آزمایا جائیں گے

بھارت کی تینوں مسلح افواج اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ایک مشترکہ مشق کریں گی جسے ‘کولڈ اسٹارٹ’ کا نام دیا گیا ہے، اور اس مشق میں ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کا تجربہ کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ مشق آپریشن سندور کے بعد ہونے والی سب سے بڑی مشق تصور کی جا رہی ہے۔

مقامی ذرائع اور اشاعتوں کے مطابق مشق کے انعقاد کا امکان مدھیا پردیش میں ہے، اور اس کا بنیادی مقصد موجودہ فضائی دفاعی صلاحیتوں کی افادیت اور خامیوں کا جائزہ لینا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ یہ مشق بدلتے ہوئے فضائی خطرات کے مقابلے میں عملی تیاری کا اندازہ لگانے پر مرکوز ہوگی۔

‘کولڈ اسٹارٹ’ ڈاکٹرائن بھارتی مسلح افواج کی وہ حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد تیزی سے اور مربوط انداز میں مشترکہ قوتیں بروئے کار لا کر محدود وقت میں روایتی اہداف حاصل کرنا ہے — تاکہ سست رفتاری کے بجائے فوری اور فیصلہ کن ردعمل ممکن ہو۔ یہ حکمتِ عملی 2001 میں آپریشن پراکرم کے بعد تیار کی گئی تھی، جس نے پارلیمان پر حملے کے بعد سست عسکری ردعمل کی ناکامی کو نمایاں کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی میں تنازع کو جوہری سطح تک لے جانے کا خطرہ موجود ہے، خاص طور پر ایسے تناظر میں جہاں پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری صلاحیتیں ہیں۔

مشق میں صنعتکار، تحقیق و ترقی کے ادارے، جامعات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی شریک ہوں گے، تاکہ جدید ٹیکنالوجی، مواصلات اور ریئل ٹائم کمانڈ اینڈ کنٹرول کے طریقہ کار کا جامع تجربہ کیا جا سکے۔

دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس ’کاؤنٹر یو اے ویز اینڈ ایئر ڈیفنس سسٹمز: دی فیوچر آف ماڈرن وارفیئر‘ میں بھارت کے چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ایئر مارشل اشوتوش دکشٹ نے کہا کہ حریف بھی تیزی سے خود کو جدید بنا رہے ہیں، اس لیے ہمیں ہمیشہ ایک قدم آگے رہنا ہوگا۔ انہوں نے آپریشن سندور کے دوران کاؤنٹر ڈرون اور جی پی ایس جیمِنگ سسٹمز کی کامیابی کا ذکر کیا اور خبردار کیا کہ دشمن نے بھی ہماری صلاحیتیں نوٹ کر لی ہیں۔ اگلی بار مزید بہتر کارکردگی ناگزیر ہوگی۔

ایئر مارشل دکشٹ نے مستقبل کے وژن کے طور پر ایک مربوط دفاعی نظام کی بات کی جس میں ڈرونز، یو اے ویز، ہائپر سونک ہتھیار اور دیگر خطرات کا یکجا مقابلہ ممکن ہو۔ ان کے مطابق ایسی صلاحیتیں امن اور جنگ دونوں حالات میں کارآمد ہونی چاہئیں کیونکہ دشمن عناصر بھی ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کر رہے ہیں، اس لیے پورے ملک میں کاؤنٹر ڈرون صلاحیتوں کی فراہمی ضروری ہے۔

Scroll to Top