غزہ عالمی ضمیر کا مدفن بن چکا ہے — پاکستانی نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کا سلامتی کونسل سے خطاب

اسلام247 : پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کا سلامتی کونسل سے خطاب — “غزہ انسانیت اور عالمی ضمیر کا مدفن بن چکا ہے”

نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ انسانیت اور عالمی ضمیر کا مدفن بن چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کرے، انسانی وقار کو برقرار رکھے، احتساب کو یقینی بنائے اور انصاف فراہم کرے۔

نیویارک میں مشرق وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین پر ہونے والے اجلاس سے خطاب میں اسحٰق ڈار نے کہا کہ فلسطینی عوام روزانہ ناقابلِ بیان جانی نقصان برداشت کر رہے ہیں، ان کے گھر، آبادیاں اور انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے جبکہ معاشرتی ڈھانچہ بکھر چکا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ غزہ قحط سالی کے دہانے پر ہے اور پانچ لاکھ افراد بھوک سے خطرے میں ہیں۔ اس کے علاوہ تین لاکھ فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں اور مزید دس لاکھ کے بے گھر ہونے کا خطرہ ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں اور ای ون منصوبے کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

پاکستانی وزیرخارجہ نے فوری اقدامات کے طور پر یہ تجاویز پیش کیں:

غیر مشروط فوری جنگ بندی،

غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی رسائی،

ضرورت مندوں تک امدادی سامان کی ترسیل،

فلسطینیوں کی جبری بے دخلی روکنے کے لیے اقدامات۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ساتھ ہی کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور فرانس کی جانب سے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس کا خیر مقدم کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں اسحٰق ڈار نے کہا”
“باتوں کا وقت گزر چکا ہے، اب عمل کا وقت ہے۔”

Scroll to Top