اسلام247 : غزہ کے حامی کارکنان کا اشدود بندرگاہ پر امداد اتارنے کی اسرائیلی درخواست کی سخت مخالفت
غزہ کے حامی بیڑے سے وابستہ کارکنوں نے صہیونی بندرگاہ اشدود میں انسانی امدادی سامان اتارنے کی اسرائیل کی درخواست کی سخت مخالفت کی ہے۔
کارکنوں نے کہا کہ ایسی درخواست فلسطینی عوام کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس بیڑے کے اصل مقصد — یعنی غزہ کی سمندری محاصرے کو توڑنے — کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اشدود میں امدادی سامان اتارنے سے یہ امداد تیزی سے غزہ پہنچ جائے گی، تاہم فلسطین کے حامی کارکنوں نے کہا کہ اس اقدام کا مطلب اسرائیل کی پالیسیوں کی توثیق اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔
حامی کارکنان نے واضح کیا کہ اسرائیلی بحریہ کو ان جہازوں پر حملے کا حق نہیں جو فلسطین کے علاقائی پانیوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون اور بحری ضوابط کی خلاف ورزی سمجھے جائیں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں جہاز ’’عمر مختار‘‘ لیبیا کے دارالحکومت سے روانہ ہوا ہے تاکہ وہ عالمی ’’صمود بیڑہ‘‘ میں شامل ہو کر غزہ کے محاصرہ کو توڑنے کی کوشش کرے۔