اسلام247 : صحرائے سینا میں مصری فوجی سرگرمیوں پر صہیونی تشویش، قاہرہ کا دوٹوک جواب
امریکی میڈیا کے مطابق، مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران صہیونی وزیرِ اعظم بنیامین نتنیاہو نے مصر کی تازہ فوجی نقل و حرکت پر اعتراض کیا اور واشنگٹن سے مداخلت کی درخواست کی۔
دو صہیونی عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ مصر نے صحرائے سینا کے ان علاقوں میں فوجی ڈھانچے اور زیرِ زمین تنصیبات قائم کی ہیں جہاں 1979ء کے امن معاہدے کے تحت صرف محدود فوجی موجودگی کی اجازت ہے۔ ان کے مطابق یہ تنصیبات ممکنہ طور پر میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
اہلکاروں کے بقول، قاہرہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ناکام ہونے پر تل ابیب نے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
مصر کا ردِعمل
مصری انٹیلی جنس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں فوجی موجودگی کا فیصلہ صرف قومی سلامتی کی ضروریات کے مطابق ہوتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ صحرائے سینا میں فوجی تعیناتی کا مقصد سرحدی سیکیورٹی، دہشت گردی اور اسمگلنگ جیسے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے اور یہ سب کچھ امن معاہدے کے فریقین کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کیا جا رہا ہے۔
قاہرہ نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ وہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے سخت خلاف ہے، اور ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناکر آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔