امریکہ کا فلسطینی قیادت پر ویزہ پابندی، “دو ریاستی حل” مزید کمزور

اسلام247:فلسطین کی جدوجہدِ آزادی میں سب سے متنازعہ نکتہ “دو ریاستی حل” رہا ہے، جو 1991ء کی میڈرڈ کانفرنس اور بعد ازاں طے پانے والے اوسلو معاہدے سے سامنے آیا۔ اس تصور کے تحت فلسطین میں ایک آزاد ریاست اور ایک صہیونی حکومت ساتھ ساتھ قائم ہونے کی بات کی گئی تھی۔

تاہم اسرائیلی توسیع پسندی اور بستیوں کی تعمیر نے اس منصوبے کو غیر مؤثر بنادیا، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ حل تقریباً ختم ہوگیا۔ ٹرمپ نے “ڈیل آف سینچری” کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ بند کیا، یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور فلسطینی قیادت پر دباؤ بڑھایا۔

اسی سلسلے کی تازہ کڑی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا فیصلہ ہے جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور ان کے وفد پر امریکہ آمد کی پابندی لگادی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ان کے ویزے منسوخ کردیے گئے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چونکہ فلسطینی اتھارٹی نے 7 اکتوبر کی کارروائی کی مذمت نہیں کی، اس لیے یہ اقدام کیا گیا۔

واشنگٹن نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کو عالمی عدالت انصاف سمیت بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی ترک کرنی ہوگی، اسرائیل کے خلاف مقدمات واپس لینے ہوں گے اور فلسطین کو یکطرفہ طور پر تسلیم کروانے کی کوششیں بھی ختم کرنی ہوں گی۔

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ “دو ریاستی حل” کے بجائے صرف ایک یہودی ریاست کے حامی ہیں۔ یہاں تک کہ محمود عباس کو جنرل اسمبلی میں شرکت سے بھی روک دیا گیا۔ اس اقدام نے امریکہ کے عرب اتحادیوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جو ایک طرف اسرائیل سے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور دوسری طرف فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیتے ہیں۔

“دو ریاستی حل” کی بنیاد جارج ایچ ڈبلیو بش کے دور میں رکھی گئی، کلنٹن اور اوباما نے اس پر زور دیا، لیکن ٹرمپ نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے “گریٹر اسرائیل” منصوبے کی راہ ہموار کی۔ اس پر عرب دنیا نے سخت ردعمل دیا اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی اختلافات میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:اقوامِ متحدہ میں فلسطین-اسرائیل 2 ریاستی حل کے اعلامیے کی بھاری اکثریت سے توثیق

مارکو روبیو کے فیصلے نے فلسطینی اتھارٹی کے مذاکراتی دھڑے کو مزید تنہا کردیا ہے۔ جو قوتیں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مفاہمت پر یقین رکھتی تھیں، وہ عوامی اعتماد کھو بیٹھیں گی۔ اس کے برعکس، فلسطینی مزاحمتی محاذ کے بیانیے کو تقویت مل رہی ہے کہ اسرائیل کے خلاف واحد مؤثر راستہ مذاکرات نہیں بلکہ مزاحمت ہے۔

Scroll to Top