امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چارلی کرک کے قتل کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر تلاشی کے بعد مشتبہ شخص کو چارلی کرک کے قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ایک لائیو اسٹوڈیو انٹرویو میں بتایا کہ ’ان کے کسی بہت ہی قریب کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی حکام نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک کے قتل میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی رائفل برآمد کرلی گئی ہے، قاتل کی معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی تحقیقاتی حکام نے کہا تھا کہ انہوں نے بولٹ ایکشن رائفل برآمد کرلی ہے جسے وہ بااثر قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار سمجھتے ہیں، اور انہوں نے ایک مشتبہ شخص کی تصاویر بھی جاری کی تھیں، حکام کے مطابق یہ شوٹر کالج کے طالب علم کی عمر کا دکھائی دیتا ہے۔
یاد رہے کہ 11 ستمبر کو امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند نوجوانوں کی تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے سی ای او اور شریک بانی 31 سالہ چارلی کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں چارلی کرک کی ہلاکت کا اعلان کیاتھا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’عظیم، بلکہ حقیقی معنوں میں ایک لیجنڈری، چارلی کرک ہلاک ہو گئے ہیں‘۔