مفتی اعظم لیبیا صادق الغریانی نے غزہ کے محاصرے پر عالمی برادری کے سکوت کو شرمناک قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔
المسیرہ کے مطابق، الغریانی نے امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ یوکرین و روس کے درمیان امن کی بات کرتا ہے لیکن غزہ میں نہتے شہریوں کے قتل عام اور اسرائیلی فوج کے امریکی جنگی طیاروں و ڈرونز کے ذریعے ہونے والے جرائم پر خاموش ہے۔
انہوں نے عرب ثالثی ممالک، مصر اور قطر، کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ صہیونی رکاوٹوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے اور فلسطینی عوام کا دفاع کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو اپنے کردار سے دستبردار ہوجائیں، کیونکہ یہ نام نہاد ثالثی صرف قابض کے مفاد میں ہے۔
مفتی اعظم نے واضح کیا کہ جو ثالث غزہ کے محصور عوام کو ضمانت دینے سے گریزاں ہو، اس کی مذاکراتی حیثیت صفر ہے اور یہ طرز عمل آپ اور آپ کے حکمرانوں کے لیے ایسا داغ ہے جو کبھی مٹایا نہیں جاسکے گا۔
انہوں نے امت مسلمہ سے فوری اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لازم ہے ہزاروں جہاز محاصرے کو توڑنے کے لیے روانہ کیے جائیں۔ یہ شرمناک امر ہے کہ مسلمان غزہ کے مظالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔