نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار آج امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے جس میں پاک-امریکا تعلقات کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاک-امریکا وزرائے خارجہ کی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔
اسحٰق ڈار کی امریکی تھنک ٹینک ’دی اٹلانٹک کونسل‘ سے بھی ملاقات ہوگی، نائب وزیراعظم دی اٹلانٹک کونسل میں اہم عالمی و علاقائی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر اور پاک-امریکا تعلقات کے مستقبل پر بات کریں گے۔
قبل ازیں نیویارک سے واشنگٹن پہنچنے پر پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے اسحٰق ڈار کا استقبال کیا۔
گزشتہ روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ پاک-امریکا وزرائے خارجہ کی ملاقات میں ’پاکستان اور بھارت کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہو گا اور ہم امریکا کے اس کردار کے شکر گزار ہیں جس نے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی طرف لے جانے میں مدد دی‘۔
اسحٰق ڈار، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی صدارت کے دوران نیویارک میں ہونے والی سرگرمیوں میں شرکت اور واشنگٹن میں دوطرفہ ملاقاتوں کے لیے امریکا کے دورے پر ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع حالیہ مہینوں میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد مئی میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک مختصر مگر شدید عسکری تصادم ہوا۔
بھارت نے پاکستان میں 7 مئی کو فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے ’آپریشن بنیانُ مرصوص‘ کے تحت بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، یہ جھڑپیں 1971 کے بعد سب سے شدید تصور کی جاتی ہیں۔
اس ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے امریکا نے سفارتی کردار ادا کیا، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی، 10 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جسے اسلام آباد نے امریکی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
شفقت علی خان نے کہا تھا کہ ’ہمارا موقف ہے کہ مسائل کو سفارتکاری اور پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، اور ہم اس پر قائم ہیں، ہم تمام ممالک کے ساتھ نیک نیتی سے رابطہ رکھتے ہیں اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں تاکہ مسائل کا پرامن حل نکل سکے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بھارت کون سا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے‘۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، ہمارا موقف واضح ہے، ہم نے امریکا کی ثالثی اور حالیہ بحران کے خاتمے میں اس کے کردار کو تسلیم کیا ہے اور اس کا شکریہ ادا کیا ہے لیکن بالآخر فیصلہ بھارت کو کرنا ہے کہ وہ کیا پالیسی اختیار کرتا ہے‘۔