وفاقی وزیرخزانہ تجارتی مذاکرات پر بات چیت کرنے کیلئے امریکا پہنچ گئے

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل تجارتی مذاکرات پر بات چیت کرنے کے لیے امریکا پہنچ گئے۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب اس سے قبل پاکستانی وفد کو امریکا کی طرف سے طویل فہرست دی گئی تھی جس میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی تجارتی معاہدے کے لیے اپنے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹیں کم کرے۔

بلوم برگ کے مطابق اس بات کی تصدیق دو ایسے افراد نے کی ہے جو معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، پاکستان کو امید تھی کہ یہ معاہدہ جولائی کے اوائل تک طے پا جائے گا لیکن مذاکرات توقع سے زیادہ طویل ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے رابطہ کیا گیا تھا تاہم انہوں نے پیغام کا جواب نہیں دیا۔

اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں گزشتہ چند ماہ میں ایک طویل سفارتی سرد مہری کے بعد بہتری کے آثار دکھائی دیے ہیں، گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی استقبال کیا، جس کے بعد پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی سفارش بھی کی۔

پاکستان، جو کرپٹو انڈسٹری کی طرف بھی پیش قدمی کر رہا ہے، نے اپریل میں ٹرمپ فیملی کی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ایک لیٹر آف انٹینٹ پر بھی دستخط کیے تھے تاکہ ملک میں بلاک چین اپنانے کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

وزارت خزانہ نے رواں ہفتے کے آغاز پر ایک بیان میں کہا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورے کے بعد تجارتی مذاکرات میں ’ حوصلہ افزا پیش رفت’ ہوئی ہے۔

امریکا کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ دیگر ممالک کی نسبت نسبتاً کم یعنی تین ارب ڈالر ہے، اور پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ ان 29 فیصد جوابی ٹیرف سے چھوٹ حاصل کی جا سکے جو ابتدا میں ٹرمپ نے عائد کیے تھے۔

پاکستان نے، جو چین کے بعد امریکی کپاس کا دوسرا سب سے بڑا خریدار ہے، امریکی کپاس اور سویابین کی درآمدات بڑھانے کی پیشکش بھی کی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا پاکستان کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی منڈی ہے۔

Scroll to Top