ہوسکتا ہے کہ کچھ علاقے الگ ہوجائیں لیکن پورا ملک ختم نہیں ہوگا اکثر علاقے باقی رہیں گے
الجولانی ابتداء ہی سے صہیونی ایجنٹ تھا اس سے اسی ذلالت کی توقع تھی۔
اسوقت جنگ شام کی سالمیت کی نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے قبضے کی ہے کہ کس کے ہاتھ میں کتنا علاقہ رہے گا
دروزی قبائل کے ساتھ جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور جولانی کی فورسز نے اس سے بغاوت کردی ہے اس لئے اب کل تک میٹھا حلوہ نظر انے والا پلان اب کڑوا کریلا بن چکا ہے اور اتنا آسان نہیں رہا کہ دروزی شام کی مرکزی حکومت سے الگ ہوجائیں۔
جب ولی فقیہ نے کہہ دیا ہے کہ شام کی تقدیر کا فیصلہ شام کے جوان کریں گے تو حالیہ واقعات پر رائے قائم کرنا عجلت کا مظاہرہ ہوگا۔ اس لئے تھوڑا صبر کرکے انتظار کیا جائے۔
یاد رکھیں یہ شام کا علاقہ ظہور امام عج میں بہت اہمیت رکھتا ہے اس لئے اس جی جانب سے اتنی جلدی مایوس نہیں ہونا۔ آخر زمان میں شام کے گروہوں میں اختلاف تو روایات میں موجود ہے لیکن اسکی نابودی کہیں ملتی۔
جو جو ممالک گدھ بن کر شام کے بٹوارے پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں(ترکی، سعودی عرب، قطر، غاصب ریاست وغیرہ) یہ سب بھی بہت جلد مشکلات میں گرفتار ہوں گے۔
حجت الاسلام یوشع ظفر حیاتی
قم المقدسہ