کفریزید ،لعن یزید اور یزید لعین کا قاتل ہونا ،قران وحدیث اور اکابرین اہل سنت کی کتب کے مستند حوالہ جات کے ساتھ یزیدی فکر لوگوں کے لیے سامان عبرت ہے۔یزید پلید ، ملعون ،باغئ قرآن،دشمن اہلبیت ، اور دشمن اسلام ،نے خاندان مصطفیﷺ پر، نونہالان چمن فاطمہ پر، شہزادگان مرتضی پر،کرب و بلا کی تپتی ریت پر سفاکی ، درندگی اور گستاخی کی جو تاریخ رقم کی ہے اس کو دیکھ کر جبروتشدد کو بھی پسینہ آنے لگتا ہے ظلم و ستم منہ چھپانے لگتا ہے آفات و مصائب بهی شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں مگر یزید تیری زبان بھی نہ تھکی قتل حسین کا حکم دینے سے اور تقدس و عظمت مآب شخصیات و محبوبان خدا و رسول کو اذیتیں دلوانے سے تجھ کو شرم بهی نہ آئ نہ قرابت رسول کا کوئی پاس و ادب ملحوظ رکھا ۔؟آلام و مصائب کے پہاڑ کے ٹوٹنے سے ، ہم شبیہ پیمبر علی اکبر کے سینہ پر برچھی لگنے سے ان کے جسم اقدس پر گھوڑے دوڑنے سے ، قاسم کا سینہ چھلنی ہونے سے عون و محمد کے سر بکھرنے سے،عباس کے بازو کٹنے سے، علی اصغر کی حلق چھدنے سے،محبوب رسول امام عالی مقام کے گھوڑے سے گرنے سے ، جسم اقدس کو گهوڑوں کی ٹاپوں سے روندا جانے سے ،سکینہ کے طمانچے کھانے سے ، زینب کے تڑپنے سے ، شہربانو کے مچلنے سے ،خیموں کے جلنے سے، امام سجاد کے غش پرغش کھانے سے ،اللہ ورسول کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی ؟ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔یزید پلید کے دوسرے جرائم کے علاوہ اہلبیت اطہار کو یہ اذیت و تکلیف پہنچانا بهی یزید کے لعنتی ہونے کا سبب ہے۔جب عام مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا اللہ و رسول کو تکلیف دینا ہے ۔
جیسا کہ ارشاد ہے: عن انس قال قال رسول اللہ:ومن اذی مسلما فقد اذانی فقد اذی اللہ۔حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول کونین ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:جس نے کسی مسلمان کو اذیت دی تو اس نے حقیقتا مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی تو اس نے در حقیقت اللہ کو اذیت پہنچائی: من اذی شعرتہ منی فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ۔۔۔فزاد ابو نعیم۔۔۔ فعلیہ لعنتہ اللہ ۔(سراج المنیر شرح جامع صغیر ص280)
امیرالمومنین حضرت علی مرتضی فرماتے ہیں کہ سرکار رسالت مآب ﷺنے فرمایا :جس نے میرے ایک بال کو اذیت پہنچائی تو اس نے حقیقتا مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی۔ ابو نعیم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
فتویٰ کفر یزید پلید:
ظاہر سی بات ہے کہ نورنگاہ مصطفیٰﷺ کو الحسین منی وانا من الحسین کے مصداق کو اذیتیں پہنچانے والا کتنا برالعنتی ہوگا ؟بعض اکابرین اُمت نے یزید پر کفر تک کا حکم لگایاہے۔امام احمد بن حنبل نےفرمایا:ماقال الامام احمد بتکفیرہ کما ثبت عندہ نقل تقریرہ۔(شرح فقہ اکبر،ص88)
علامہ شیخ محمد بن علی الصبان فرماتے ہیں:
وقد قال الامام احمد بکفرہ، وفقہ علی ذالک جماعتہ کابن الجوزی۔(اسعاف الراغبین ، ص 210)
کفر یزید کے قول پر علماء کی ایک جماعت نے انکی موافقت کی ہے جیسے ابن جوزی۔
وقالت طائفتہ انہ کافر سبط ابن الجوزی وغیرہ المشھور انہ لماجاء راس الحسین جمع اھل الشام وجعل ینکتہ راسہ بالخیزران وینشدابیات الزبعری،لیت اشیاخی ببدرشھدواالابیات المعروفتہ وازادفیھما بیتین مشتملین علی صریح الکفر، وقال ابن جوزی فیما حکاہ سبطہ عنہ لیس العجب عن قتال ابن زیاد للحسین وانما العجب من خذلان یزید وضربہ بانقضیب ثنایا الحسین وحملہ آل رسول اللہ ﷺ وعلی اقتاب الجمال۔(الصواعق المحرقہ،ص218)
کفرکے ساتھ ساتھ اس پر لعنت کرنا جائز قرار دے دیا ہے، چنانچہ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت صالح نے یزید پر لعنت کرنے کے بارے میں پوچھا تو حضرت امام احمد بن حنبل نے فرمایا:یا بنی ھل یتولی یزید احد مومن باللہ ولم لا العن من لعنہ اللہ فی کتابہ،فقلت این لعن اللہ یزید فی کتابہ فقال فی قولہ تعالی:فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم فھل یکون فساد اعظم من ھزاالقتل۔
ترجمہ: بیٹا کوئی اللہ پر ایمان رکھنے والا ایسا بھی ہوگا جو یزید سے دوستی رکھے اور میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر اللہ نے اپنی کتاب میں لعنت بھیجی ہو۔عرض کیا اللہ نے یزید پر اپنی کتاب میں کہاں لعنت بھیجی ہے ؟تو فرمایا: اس آیت:فھل عسیتم۔۔۔ الخ۔کہ پھر تم سے یہی تو توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کروگے اور قطع رحمی کروگے ایسے ہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے پھر ان کو اندھا اور بہرہ کردیا۔پھر امام صاحب نے فرمایا کہ بیٹا کیا قتل حسین سے بھی بڑھ کر کوئی فساد ہوسکتا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا۔(سورۃ الاحزاب ،آیت : 57)
بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کوایذا دیتے ہیں ان پردنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرما دی ہے اور اللہ نے ان کے لیے رسواکردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اس آیت کریمہ کی رو سے یزید مستحق لعنت بھی ہوا اور جہنمی بھی،جیسا کہ اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ اللہ ورسول ﷺکو ایذا دینے والے پر اللہ کی لعنت ہے یزید پلید سے بڑھ کر اللہ اور رسولﷺ کو تکلیف کس نے دی ہوگی ؟
یہاں سے سمجھ لینا چاہئے کہ قاتلانِ اہل بیت پر کس درجہ لعنتیں برس رہی ہوں گی، صحیحین ، وفاءالوفاء، جذب القلوب ،صحیح ابن حبان، سراج المنیر، جیسی کتنی ہی کتب معتبرہ و مستندہ سے ثابت ہے کہ اہل مدینہ کو اذیت دینے والوں ، ستانے والوں ، برائی کرنے والوں ، ظلم سے خوفزدہ کرنے والوں ، پر اللہ اور اس کے فرشتو ں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کا فرض قبول ہوگا نہ نفل وہ دوزخ میں ہوں گے ۔
کفرِ یزید پلید لعین کا ثبوت:
یزید پلید لعین کے کفر کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو کہ جب شہداء کربلا کے سروں کو یزید کی مجلس میں لایاگیا اور یزید لکڑی کو امام حسین کے لب مبارک اور دندانِ مبارک پر مار رہا تھا اور یہ کفریہ اشعار پڑھ رہا تھا:

ترجمہ:بنی ہاشم کی اولاد (رسول اللہ ﷺ) نے حکومت کو بازیچہ بنایا اور حقیقت یہ ہے کہ (خداوند عالم کی طرف سے ) نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی ۔جنگ بدر میں میرے خاندان سے جو بزرگ قتل ہوئے تھے کاش کہ وہ آج ہوتے اور دیکھتے کہ کس طرح قبیلہ خزرج نیزوں کی چوٹ سے نالہ وزاری کررہے ہیں ۔اس وقت وہ خوشی سے چیختے اور کہتے : اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں۔ آج ہم نے بدر کے واقعہ کا انتقام لے لیا اور بدر کی طرح ان سے حساب و کتاب کرلیا اور اب ہم برابر ہوگئے ۔میرا تعلق ’’خندف‘‘ کی اولاد سے نہیں ہے جو میں احمد (رسول اکرم ﷺ) کی اولاد سے انتقام نہ لوں ۔( تاريخ طبرى،ج 8،ص 188/ البداية و النهاية ابن كثير،ج 8، ص 208/ مقاتل الطالبيين،ص 80/ اخبار الطوال دينورى،ص 267/تفسيرابن كثير،ج 1،ص 423 / شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد،ج 4،ص 72۔)
کفر یزید کے قائل علمائے اہل سنت:
علامہ محمود آلوسی(متوفی 1279 ھ) کے مطابق یزید کافر ہے اور اس پر لعنت کرنا جائز ہے۔جیساکہ علامہ آلوسی ،سورہ47 آیت 22 اور 23 کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں:الذي یغلب على ظني أن الخبيث لم یكن مصدقا برسال النبي صلى اللَّہ تعالى عليه وسلم۔۔۔ وأنا أذهب إلى جواز لعن مثله على التعيين ولو لم یتصور أن یكون له مثل من الفاسقين والراهر أنه لم یتب واحتمال توبته أضعف من إیمانه ویلحق به ابن زیاد وابن سعد وجماع فلعن اللَّه عز و جل عليهم أجمعين وعلى أنصار هم وأعوانهم وشيعتهم ومن مال إليهم إلى یوم الدین ما دمعت عين على أبي عبد اللَّه الحسين.
ترجمہ:اور ميں وہی کہتا ہوں جو ميرے ذہن پر حاوی ہے کہ (یزید) خبيث نے رسول اللہ ﷺکی رسالت کی تصدیق نہيں کی ۔ ميرے مطابق یزید جيسے شخص پر لعنت کرنا جائز ہے حالانکہ انسان یزید جيسے فاسق کا تصور بهی نہيں کرسکتا اور براہ راست اس نے کبهی توبہ نہ کی اور اس کی توبہ کرنے کے امکانات ، اس کے ایمان کے امکانات سے بهی کم ہيں۔ یزید کے ساتھ، ابن زیاد ، ابن سعد اور اس کی جماعت کو بهی شامل کرنا چاہيے۔ تحقیق، اللہ کی لعنت ہو ان تمام لوگوں پر، ان کے دوستوں پر، ان کے مدد گاروں پر اور ان کی جماعت پر، قيامت تک اور اس وقت تک جب تک کہ ایک آنکھ بهی ابوعبداللہ الحسين کے لئے آنسو بہاتی ہے۔(تفسیر روح المعانی، ج 26 ص 72)
قاضی ثناءالله پانی پتی کے مطابق یزید شرابی و کافر ہے اور اس پر لعنت کرنا جائز ہے۔
تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں: یزید اور اس کے ساتهيوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اہل بيت کی دشمنی کا جهنڈا انہوں نے بلند کيا اور حضرت حسين کو انہوں نے ظلماً شہيد کردیا اور یزید نے دین محمدی کا ہی انکار کردیا اور حضرت حسين کو شہيد کرچکا تو چند اشعار پڑهے جن کا مضمون یہ تها کہ آج ميرے اسلاف ہوتے تو دیکهتے کہ ميں نے آل محمد اور بنی ہاشم سے ان کا کيسا بدلہ ليا۔یزید نے جو اشعار کہے تھے ان ميں آخری شعر یہ تها:احمد نے جو کچھ (ہمارے بزرگوں کے ساتھ بدر ميں) کيا اس کی اولاد سے ميں نے اس کا انتقام نہ ليا تو ميں بنی خندف سے نہيں ہوں۔یزید نے شراب کو بهی حلال قرار دے دیا تها۔ شراب کی تعریف ميں چند شعر کہنے کے بعد آخری شعر ميں اس نے کہا تها:اگر شراب دین احمد ميں حرام ہيں تو (ہونے دو) مسیح بن مریم کے دین (یعنی عيسائیت) کے مطابق تم اس کو(حلال سمجھ کر) لے لو۔یزید اور اس کے ساتهيوں اور جانشينوں کے یہ مزے ایک ہزارمہینے تک رہے،اس کے بعد ان ميں سے کوئی نہ بچا۔( تفسیر مظہری (عربی)، ج 5 ص 271 سورہ 14 آیت 20/تفسیر مظہری (اردو)، ج 6 ص 292 293 سورہ 14 آیت 20)
کیا یزید حرمتِ صحابہ کادروازہ ہے۔۔۔؟
افسوس صد افسوس آج کے دور میں کچھ لوگ یزید کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں یزید کو لعنت کا حقدار ٹھہرانے کے لئے کربلا کا واقعہ ہی کافی تھا۔یہ جو آج یزید زندہ باد کے نعروں کی حمایت کر رہے ہیں، یزید کے نام سے کتب شائع کرکے کربلا کو دو شہزادوں کی جنگ ثابت کرنا چاہتے ہیں، یہ تاریخ نئی نہیں ہے۔ آج سے چودہ سو سال قبل بنو امیہ نے مؤرخ خریدے۔ بھرپور میڈیا نیٹ ورک کا استعمال کیا گیا۔ طاقت، منبر، محراب، فوج، سپاہ اور علمائے سوء باقاعدہ طور پر خریدے گئے، تاکہ درہم و دینار کے عوض حدیثیں گھڑی جائیں۔ مولائے کائنات علی ابن ابن طالب کے خلاف ایک حدیث گھڑنے پر بیس بیس ہزار دینار انعام رکھا جاتا، مگر یہ پھر بھی اعجاز ہے کہ خیبر شکن کی حقانیت اور فضائل سے یہ دنیا خالی نہ ہوسکی اور علی اور اولاد علی کا ذکر آج بھی جاری ہے۔دور یزیدی آج ایک بار پھر پلٹ آیا ہے۔ آج بھی نسل یزید امام حسین کا ذکر روکنے پر بضد ہے۔ اگر اس وقت امام حسین وقت کی پکار پر لبیک نہ کہتے تو نماز بھی رہتی، روزہ بھی رہتا، مگر سب کچھ بدل گیا ہوتا۔ اسلام اپنی مرضی کے سانچوں میں ڈھل گیا ہوتا، حلال محمدی کو حرام محمدی میں بدل دیا جاتا۔ اس لیے امام عالی مقام نے قیام کیا اور کہا’’مثلی لا یبایع مثلہ‘‘ یعنی مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا۔ قیامت تک کوئی بھی حسینی کسی یزید کے سامنے نہیں جھک سکتا، چاہے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں یا لاشیں اٹھانا پڑیں۔ (فضائل اہل بیت اطہار ، ص 302-304،مطبوعہ: تحقیقاتی ادارہ برائے مہدویت(امام مہدی کمپلیکس)، سندھ)
مفتی محمد ہاشم سندھی
(محقق: موسوعة الامام المهدي(امام مہدی انسائیکلوپیڈیا)/ ڈائریکٹر: تحقیقاتی ادارہ برائے مہدویت (امام مہدی کمپلکس) ، سندھ)
almufti1983@gmail.com