ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوہری تنصیاب پر امریکی حملے کے بعد ایران کا پہلا باضابطہ سرکاری ردعمل جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ امریکی حملہ افسوسناک، اشتعال انگیز اور دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔
جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن امریکا نے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون، اور این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے) کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صبح کے واقعات نہایت افسوسناک، اشتعال انگیز اور دور رس نتائج کے حامل ہیں، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو اس انتہائی خطرناک، قانون شکن اور مجرمانہ طرزِ عمل پر شدید تشویش ہونی چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی ان شقوں کے مطابق جو اپنے دفاع میں جائز اقدام کی اجازت دیتی ہیں، ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔
امریکی فوجی جارحیت کے خلاف پوری قوت سے کھڑا ہونا ایران کا ہے، وزارت خارجہ
دریں اثنا، ایران کی وزارت خارجہ نے اپنی جوہری تنصیبات پر امریکا کے حالیہ حملوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین اور بے مثال خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا یہ نہ بھولے کہ یہ امریکا ہی تھا جس نے ایک سفارتی عمل کے دوران اسرائیل کی جارحانہ کارروائی کی حمایت کر کے سفارت کاری سے غداری کی، اور اب ایران کے خلاف ایک خطرناک جنگ کا آغاز کیا ہے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکا نہ کسی اصول کا پابند ہے اور نہ اخلاقیات کا، اور وہ ایک نسل کش اور قابض حکومت کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کسی بھی غیرقانونی اقدام یا جرم سے گریز نہیں کرتا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، امریکا کی فوجی جارحیت اور اس سرکش حکومت کے جرائم کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہونے اور ایران کی سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کو اپنا حق سمجھتا ہے۔