عراق میں شہید رہبرؒ کی تشییع: ایک کروڑ سے زائد سوگواروں کا تاریخی اجتماع

تشییع جنازہ

عراقی منتظمین نے کہا ہے کہ شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی جنازہ تقریبات میں ایک کروڑ سے زائد سوگواروں نے شرکت کی۔

بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں عراق میں جنازہ تقریبات کی اعلیٰ نگرانی کمیٹی نے بتایا کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مقدس شہروں نجف اور کربلا میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی۔

کمیٹی کے سربراہ اور عراقی وزیراعظم کے دفتر کے ڈائریکٹر احسان یاسین العوادی نے کہا کہ لاکھوں سوگواروں کی موجودگی کے باوجود مراسم “پرامن اور منظم طریقے سے” مکمل ہوئے اور کوئی بڑا سیکورٹی واقعہ پیش نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں : شہید رہبرؒ کا خون امت اسلامی میں بیداری کا چشمہ بن گیا، کمانڈر سپاہ پاسداران

انہوں نے کہا کہ “اسلامی دنیا اور عالمی رائے عامہ نے عراق کے دونوں مقدس شہروں میں شہید رہبر کی جنازہ جلوس کو بڑے غم اور جذبات کے ساتھ دیکھا۔”

العوادی نے سرکاری حکام، سیکورٹی اور سروس ایجنسیوں اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا جن کی محنت سے یہ بے مثال تقریب کامیاب ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے کام شروع ہوتے ہی ایران، مقامی عراقی حکومتوں، مقدس روضوں کے انتظام، سیکورٹی اور سروس اداروں کے ساتھ intensive میٹنگز کر کے جامع پلان تیار کیا تھا۔

ایران کے قائم قائم قنسول جنرل جعفر صفری نے کربلا میں تقریباً 60 لاکھ افراد کی شرکت کا ذکر کیا۔

المیادین ٹی وی نے کربلا گورنریٹ کے حوالے سے 70 لاکھ سوگواروں کی تعداد بتائی تھی۔

نجف میں صبح 6 بجے امام علی علیہ السلام کے روضہ پر نماز جنازہ کے بعد جنازہ جلوس شروع ہوا جو کفہ پل اور ثورۃ العشرین چوراہے سے گزرتے ہوئے السدرین چوک پہنچا اور پھر کربلا کی طرف روانہ ہوا۔

اگرچہ مراسم صرف چند گھنٹے جاری رہے مگر ان کی بے مثال وسعت نے انہیں دونوں شہروں کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع بنا دیا۔

ان تقریبات میں عراق کی نیشنل وِزڈم موومنٹ کے لیڈر عمار الحکیم اور سابق وزیراعظم نوری المالکی بھی شریک ہوئے۔

شہید رہبر کی تدفین جمعرات کو مشہد میں حرم امام رضا علیہ السلام میں ہوگی۔

Scroll to Top