حوزہ علمیہ ایران کے نائب سربراہ آیت اللہ جواد مروی نے شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی تشییع جنازہ کے موقع پر نجف اشرف میں علما و روحانیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ علمیہ قم کے علماء، اساتذہ اور مراجع عظام تقلید کے نمائندوں کا وفد صرف زیارت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لیے نہیں بلکہ حوزہ قم کی طرف سے سلام و تحیات پہنچانے کے لیے نجف اشرف آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دونوں حوزوں شریف اور دو برادر ملتوں کے درمیان برادری، ایمان اور وحدت کلمه کے گہرے رشتوں کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مشہد مقدس میں شہید رہبرؒ کا جسد خاکی پہنچ گیا، لاکھوں سوگوار آخری خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں
آیت اللہ مروی نے کہا کہ شہید قائد امت نے عراقی ملت کو “بڑی، عزیز، صاحب ثقافت، عظیم اور ارادہ مند قوم” قرار دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سلام و تحیات کے بعد اپنے شہید قائد کا پاکیزہ جسد لے کر آئے ہیں تاکہ ان کی دیرینہ آرزو — زیارت مولا علی علیہ السلام اور مولا ابی عبداللہ الحسین علیہ السلام — پوری ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم شہید رہبر کا پاکیزہ جسد آپ کے حوالے کر رہے ہیں جو خون میں لتھڑا ہوا اور اعضاء بریدہ ہے۔ شہید رہبر امام حسین علیہ السلام کے مکتب پر ڈٹے رہے اور آخر میں فرمایا کہ “میں یزید جیسے شخص سے بیعت نہیں کروں گا۔”
آیت اللہ مروی نے کہا کہ یہ تشییع صرف ایک شہید سے الوداع نہیں بلکہ دنیا بھر کو پیغام ہے کہ عراق اور ایران کی ملت ایک روح دو قالب ہیں جو عقیدہ، وحدت اور برادری ایمانی سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے دعا کی کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں، اسلامی تہذیب نو کی طرف پیش رفت ہو اور حضرت حجت علیہ السلام کے ظہور کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ دشمنان اسلام کو ہلاکت دی جائے اور مسلم اقوام کو اتحاد و قوت عطا فرمائی جائے۔