ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مرحوم رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کی شہادت نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اتحاد کی جستجو کو نئی تحریک بخشی ہے۔
انہوں نے ہفتہ کے روز “امام خامنہ ای، مزاحمت کے ابدی رہنما” کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ مسلم اتحاد کو اسلامی امت کی اہم ضرورت قرار دیا اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس موضوع پر خطابات، مضامین اور کتابوں کے ذریعے واضح کرنے میں صرف کیا۔
انہوں نے کہا کہ 28 فروری کو امریکہ اسرائیل کی جارحیت کے پہلے روز شہید رہبر کی شہادت نے بھی دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کو اتحاد کی طرف متوجہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی وزارت خارجہ: شہید رہبرؒ کا ورثہ عزت اور آزادی کی خارجہ پالیسی سے زندہ رکھیں گے
صدر نے کہا، “الہی رہنماؤں کا سوچ اور پیغام شہادت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ زندہ رہتا ہے اور اگلی نسلوں کو حق، انصاف اور مزاحمت کے راستے پر چلنے کی رہنمائی کرتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کے دشمنوں کی پالیسی بن چکی ہے کہ وہ سائنسدانوں، اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کو نشانہ بنا کر مسلم اقوام کو کمزور کریں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کی خاموشی کی مذمت کی۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ صیہونی رژیم علانیہ قتل اور خاتمے کی بات کرتی ہے جبکہ بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ایران نے جمعہ سے شہید رہبر کے ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے عوامی جنازہ مراسم کا آغاز کیا ہے۔ یہ مراسم تہران، قم، عراق اور مشهد میں ہوں گے۔