i24seven.org : امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں نیا اور مستقل سفارت خانہ تعمیر کرنے کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
اس تقریب کے دوران اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈئین سار اور اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارت خانے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے معاہدے کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا یروشلم کو یہودی عوام کا ازلی، مقامی اور ہمیشہ کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا یروشلم کی سرزمین پر اپنا پرچم لہرائے گا اور ایک نیا، مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کرے گا جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈئین سار نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان ناقابلِ شکست اتحاد کی عکاسی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان پر اسرائیلی جارحیت میں اضافہ: شہداء کی تعداد 4297 ہو گئی
معاہدے کے مطابق امریکی سفارت خانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع ایلنبی کمپائونڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے زیادہ متنازع شہر ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے سفارت خانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔