مشہور و معروف امریکی ماہر اقتصادیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس نے روسی خبر ایجنسی ‘تاس’ (TASS) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
– ایران پر حالیہ امریکی-اسرائیلی جارحیت “غیرقانونی” اور “مَن مانی” کے زمرے میں آتی ہے
– واشنگٹن نے ایران کو ترنوالہ سمجھ لیا تھا اور اس ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے، اس پر قبضہ کرنے، اس کے نظام حکومت کے خاتمے، اس کے تیل کے ذخائر ہتھیا لینے اور اس کو اسرائیل-فرینڈلی ملک بنانے جیسے اعلانیہ مقاصد کے تحت ایران پر حملہ کیا۔
– امریکا نہ صرف اپنے ان مقاصد تک تک نہیں پہنچ سکا، بلکہ اس جنگ کا “جارح اور ہارا ہوا فریق” بھی بن گیا۔
اگر یہ تنازع جاری رہا تو یہ بہ آسانی “تیسری جنگ عظیم” کا باعث بن سکتا ہے۔
– آبنائے ہرمز کی بندش جاری ہے اور یہ صورت حال دنیا میں “بے مثال اقتصادی بحران” پیدا کر رہی ہے۔
– امریکا اس کشیدگی کو جاری رکھے گا اور یہ کشیدگی بڑھے گی تو خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔
– واشنگٹن کے یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
– ایران اس جنگ میں قصوروار نہیں بلکہ غیر قانونی جارحیت کا شکار ہے۔
– امریکا ایران کے خلاف بحری ناکا بندی نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسے جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
– ایران فوجی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے، امریکا کے ابتدائی تصورات سے کہیں زیادہ، طاقتور اور مضبوط ہے۔
– میں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ کا انجام درحقیقت “امریکہ کی پسپائی” اور ایران کی تسدید کی عظیم صلاحیت میں اضافے کی صورت میں ہوگا۔
– ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کے پہلے دن (28 فروری 2026ع کو) سلامتی کونسل کا اجلاس کا منعقد ہوا اور میں انتہائی شدید حیرت سے دوچار ہوا کہ سب نے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا اور اس کی مذمت کی!!
– حقیقتا یہ ایک شرمناک اور “رسواکن” طرز عمل تھا: “حقیقت کو الٹ پلٹ کر پیش کرنا” “امریکا کے حامی ممالک نے جارح کی مذمت کے بجائے جارحیت کا شکار ملک پر سوال اٹھائے!!
– مغربی ایشیا کے عرب ممالک ـ جو جارح کی حمایت کرتے ہیں اور جارحیت کا نشانہ بننے والے ملک ایران پر تنقید کرتے ہیں ـ امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے اپنی آزادی کھو چکے ہیں وہ امریکہ کے حلقہ بگوش ہیں۔
– آشکار و عیاں اور ناقابل انکار حقیقت یہ ہے کہ ایران واضح جارحیت کا نشانہ بنا ہے اور امریکا اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔
– جب ایران خلیج فارس میں امریکی اڈوں پر حملہ کرتا ہے، تو وہ اپنے جائز دفاعی حق کو استعمال کر رہا ہوتا ہے۔