ایرانی سابق نائب صدر سید امیرحسین قاضی زادہ ہاشمی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت بے معنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انھیں بنیادی طور پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کی منطق پر ہی اعتراض ہے اور سوال اٹھایا کہ ایران آخر امریکا سے مذاکرات کیوں کرے؟
قاضی زادہ ہاشمی نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کے قانونی نظام اور حاکمیت کی بات ہو تو یہ معاملہ ایران، عمان اور زیادہ سے زیادہ خطے کے چند دیگر ممالک سے متعلق ہے
انھوں نے مزید کہا کہ اسی طرح بحیرہ کیسپین کے قانونی معاملات پر گفتگو بھی صرف اس کے ساحلی ممالک کے درمیان ہونی چاہیے اور اس میں امریکا کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر امریکا کو موجودہ عالمی سامراجی طاقت سمجھا جائے تو پھر اس کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں، کیونکہ سامراج کی فطرت ہی ممالک کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم نہ کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ دوسرے ممالک آزاد اور خودمختار رہیں، اسی لیے اگر مذاکرات کے لیے ایک شرط بھی رکھی جائے تو وہ اسے قبول نہیں کرتا اور ماضی کی طرح مختلف بہانے اور رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔
قاضی زادہ ہاشمی نے مزید کہا کہ اگر امریکا کو ایک غیر سامراجی ملک بھی تصور کیا جائے تب بھی مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا، کیونکہ وہ ایران سے بارہ ہزار کلومیٹر دور واقع ہے، لہٰذا سوال یہ ہے کہ آخر دونوں ممالک کس معاملے پر مذاکرات کریں؟
انھوں نے آخر میں کہا کہ دونوں صورتوں میں وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی سمجھتے ہیں۔