وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔ صدارتی محل میں90 منٹ جاری رہنے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن کیلیے ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، وزیر داخلہ سکندرمومنی بھی موجود تھے۔ تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی صدارتی محل میں تین گھنٹے گزارے۔
ایرانی صدر نے کہا اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے بیرونی جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مذاکرات کیلئے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ شرائط عائد کی ہیں۔ جو اس طرح ہیں امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا، 400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کیا جائیگا، صرف ایک ایرانی جوہری تنصیب برقرار رہے گی، ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد بھی نہیں دیا جائے گا۔
مذاکرات تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے پیش کی گئی پانچ شرائط میں تمام محاذوں خاص طور پر لبنان میں جنگ کا خاتمہ، ایران پر پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ایران کو جنگی ہرجانے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
تہران نے امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے بعد گزشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ نے ایرانی تجاویز کے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت نہیں دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ایران کو جلدی کرنا ہو گی ورنہ ان کیلئے کچھ نہیں بچے گا۔ ایران کیلئے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ اپنے ملک کے ایک فوجی کمانڈر کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں اور اس پر لکھا ہوا ہے ’طوفان سے پہلے کی خاموشی۔‘