عرب امارات کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کی تجویز پر سعودی عرب کا انکار

بلومبرگ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کی جوابی کارروائیوں کے خلاف مشترکہ ردعمل کے لیے سعودی عرب کو قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم ریاض کی مخالفت کے بعد ابوظہبی کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق، محمد بن زائد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اور صہیونی حکام کے ساتھ تعاون بڑھانے کے خواہاں تھے، لیکن خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے انہیں واضح طور پر بتا دیا کہ یہ جنگ ان کی جنگ نہیں ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے خلیج فارس کے عرب ممالک کی حمایت کے بغیر مارچ کے آغاز میں اور پھر اپریل میں ایران کے خلاف محدود حملے کیے۔

اس سے قبل یہ بھی رپورٹ سامنے آئی تھی کہ صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایک خفیہ دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے سربراہ محمد بن زائد سے ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت اور تبدیلی آئی۔

صہیونی ٹی وی چینل 12 نے انکشاف کیا تھا کہ یہ ملاقات ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات اور حالیہ جنگ کے دوران امارات کو درپیش حملوں کے تناظر میں کی گئی تھی۔

Scroll to Top