چین کو تیل کی برآمدات سے ایران کی آمدنی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

امریکی پابندیوں کے باوجود ایران دوسرے ممالک کو تیل فروخت کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔

اقتصادی جریدے میس نے رپورٹ کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور پابندیوں کے دباؤ کے باوجود مارچ 2026 میں چین کو تیل کی برآمدات سے ایران کی آمدنی حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران ایران کی چین کو تیل کی برآمدات کی مالیت تقریباً 5.3 ارب ڈالر رہی۔

ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ خلیج فارس میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی خطرات ہیں، کیونکہ خطے میں کشیدگی اور خصوصاً آبنائے ہرمز میں ممکنہ تنازع کے خدشات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر لے جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باعث پابندیوں کے باوجود ایران کی تیل برآمدات کی ڈالر مالیت میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب چین کی آزاد ریفائنریاں بھی اس صورتحال میں ایرانی تیل خریدنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں، کیونکہ ایران اپنی مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے کے لیے خریداروں کو خصوصی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 27 ماہ کے دوران چین کو تیل کی فروخت سے ایران کی ماہانہ آمدنی عموماً 2 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان رہی، تاہم مارچ 2026 میں یہ رقم بڑھ کر تقریباً 5.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

یہ رقم فروری 2026 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ اس مہینے ایران کی چین کو تیل برآمدات سے آمدنی تقریباً 2.6 ارب ڈالر رپورٹ کی گئی تھی۔

Scroll to Top