ٹرمپ کی ذہنی حالت پر نئے سوالات، صرف تین گھنٹوں میں 50 سے زائد پوسٹس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز علی الصبح صرف تین گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر غیر معمولی تعداد میں پوسٹس شیئر کیں جن میں سازشی نظریات، طنزیہ تصاویر اور اپنے ناقدین کے خلاف سخت حملے شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے بھاری اخراجات پر اندرونی دباؤ کا سامنا کرنے والے ٹرمپ نے تین گھنٹوں میں 50 سے زائد پوسٹس شائع کیں۔ ان پوسٹس میں انہوں نے اپنے حامیوں کے اکاؤنٹس سے ویڈیوز اور اسکرین شاٹس کے علاوہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ طنزیہ تصاویر بھی شیئر کیں۔

ٹرمپ نے اپنی ایک پوسٹ میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، جبکہ ایک اور پوسٹ میں سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اوباما اور ہیلری کلنٹن کے ذاتی ای میل سرور سے متعلق تحقیقات میں ممکنہ تعلقات کا درست جائزہ نہیں لیا۔

جیمز کومی نے منگل کے روز سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے، اس سوال کے جواب میں کہ آیا ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت کے بعد تبدیل ہو چکے ہیں، کہا: میرے خیال میں ان کی حالت ٹھیک نہیں۔ مجھے معلوم ہے یہ بات سیاسی تنقید جیسی لگتی ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شخص کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہے۔ گزشتہ رات کی وسوسہ انگیز پوسٹس خالص دیوانگی معلوم ہوتی ہیں۔

انہوں نے براہ راست ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ایسا لگتا ہے کہ تم اپنی عقل کھو بیٹھے ہو۔

ٹرمپ نے اپنی دیگر پوسٹس میں امریکی محکمہ انصاف کے قائم مقام اٹارنی جنرل کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ٹرمپ کے ناقدین کے خلاف تحقیقات تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید پوسٹس میں ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے اپنے پرانے دعوؤں کو بھی دہرایا۔

ادھر واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے مشترکہ سروے کے مطابق 59 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ ٹرمپ ملک چلانے کے لیے مطلوبہ ذہنی صلاحیت نہیں رکھتے۔

Scroll to Top