جمعیت العمل الاسلامی (امل) نے بحرین کے عوام سے ملک بھر احتجاج کی اپیل کردی

جمعیت العمل الاسلامی (امل) نے بحرین کے عوام سے ملک بھر میں کھلے عام غم و غصے کا اظہار کرنے اور ظلم و جبر کے خلاف پرامن قومی تحریکوں میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔

آل خلیفہ کی جانب سے رمضان جنگ کے بعد سے بحرینی شیعوں کے خلاف جبری کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ گرفتاریاں، تشدد، جلاوطنی اور درجنوں بحرینیوں کی شہریت واپس لینا اس ڈکٹیٹر آل خلیفہ کی جبری حکومتی کارروائیوں میں شامل ہیں۔

کل سیکورٹی فورسز نے بحرین کے مختلف علاقوں میں شیعہ علما کے گھروں پر وحشیانہ حملہ کر کے درجنوں مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ اس پر جمعیت امل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وزرات داخلہ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں ایران کی سپاہ پاسداران اور ولایت فقیہ سے روابط کے جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں، لیکن محض عقائد اور خیالات کی بنیاد پر شہریوں کے ساتھ زیادتی جائز نہیں ہے۔ یہ تمام اقدامات مایوس کن کوششیں ہیں تاکہ وحشیانہ جبر اور شیعہ فرقے کو نشانہ بنانے کا جواز پیش کیا جا سکے۔

جمعیت امل نے خبردار کیا ہے کہ آل خلیفہ گھروں پر حملے، خواتین و بچوں کو ڈرانا، علما اور نوجوانوں کو گرفتار کرنا، جلاوطنی، شہریت واپس لینا اور تشدد کے ذریعے عوام کی مرضی توڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اس خطرناک کشیدگی کے تمام نتائج کی ذمہ داری آل خلیفہ پر عائد ہوتی ہے۔

جمعیت امل نے بحرین کے عوام سے ملک بھر میں پرامن احتجاج کرنے، قیدیوں اور ان کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بھی بحرینی عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف خاموشی توڑنے کی درخواست کی گئی ہے۔

بحرین کی قوم جبر کے خلاف اپنی قانونی حقوق، وقار اور شناخت کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھے گی جب تک ظلم کا خاتمہ اور آزادی و انصاف حاصل نہ ہو جائے۔

Scroll to Top