ایران اور امریکہ کے درمیان معنی خیز مذاکرات کی میزبانی اعزاز کی بات ہوگی: پاکستانی وزیرِ خارجہ

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مکمل خاتمے کے لیے متعدد طریقوں پر غور کیا ہے۔

اتوار کو مصر، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرنے کے بعد اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تمام وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ہے کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور اس کے سبب تباہی اور اموات ہی ہوں گے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’میں نے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے امکانات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ہے۔‘

’وزرائے خارجہ نے اس اقدام کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں اور بین الاقوامی برداری میں شراکت داروں سے مسلسل رابطے برقرار رکھے ہیں۔ ہم اس جنگ خاتمے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا حصہ رہے ہیں۔‘

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید بتایا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ ایران اور امریکہ نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

’آنے والے دنوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے چین کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی فون پر بات کی ہے اور ان دونوں نے امن کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

Scroll to Top