یمن کی مقاومتی تحریک “انصار اللہ” كے سربراہ “سید عبدالمالک الحوثی” نے کہا کہ ہم امریکی-سعودی اتحاد کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے 11ویں سال میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے مسلمانوں میں ہار ماننے کی ثقافت کو پروان چڑھایا جو مورد تنقید ہے۔ دشمن، خاص طور پر صیہونی رژیم، امت مسلمہ میں شکست کا جذبہ فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کچھ عرب و اسلامی حکومتیں بھی اس راستے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو بڑی غداری قرار دیا۔ اس بارے میں انہوں نے موقف اپنایا کہ امریکہ و اسرائیل کے سامنے سر تسلیم خم ہونے کے تباہ کن نتائج پیش آئیں گے۔ جو دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
یمن پر سعودی اتحاد کے 11 سالہ حملے کے نقصانات
انصار اللہ کے سربراہ نے اس جنگ میں انسانی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے پہلوؤں کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی جارحیت کے نتیجے میں تقریباً 60 ہزار یمنی شہید یا زخمی ہوئے جب کہ 14 لاکھ سے زائد افراد محاصرے، بیماری اور غذائی قلت کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔ اس جارحیت نے 670 سے زیادہ صحت کے مراکز، تقریباً 2900 تعلیمی مراکز، 5600 سے زیادہ بجلی کے اداروں، 2200 مواصلاتی مراکز اور سینکڑوں ایندھن کے اداروں کو تباہ کیا۔ انہوں نے 14 بندرگاہوں، 9 ہوائی اڈوں، 4 سول طیاروں، 15 ہزار سے زیادہ خوراک کے اداروں اور تقریباً 19 ہزار 400 زرعی و مویشی پالنے کے اداروں کی تباہی کی بھی اطلاعات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان حملوں میں 4 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ مویشی، 43 ہزار شہد کے چھتے اور درجنوں اصیل عربی گھوڑے ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں 1840 سے زیادہ مساجد، 90 سے زیادہ قبرستان اور تقریباً 2200 سرکاری اور خدماتی عمارتوں تباہ ہوئیں، جن میں سماجی مراکز اور معذور افراد کے خصوصی مراکز بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آور اتحاد نے 2960 سے زیادہ کلسٹر بم حملے کئے جن کے اثرات ابھی تک جاری ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی افواج روزانہ سرحدی علاقوں میں یمنی شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ سید عبد المالک الحوثی نے شہریوں کے خلاف جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمنی مہاجرین کو بھی پرتشدد طریقوں سے نشانہ بنایا گیا، ان اقدامات کی متعدد ویڈیو دستاویزات موجود ہیں۔ انہوں نے یمن کے تیل کے شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کی مالیت 57 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی اور کہا کہ حالیہ برسوں میں کشیدگی میں نسبتاً کمی کے باوجود، حملہ جاری ہے۔ یمن کا وسیع علاقہ اب بھی سعودی اتحاد کے قبضے میں ہے۔ یہ اتحاد یمن کی سیاسی فیصلہ سازی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حتیٰ کہ حکومتی عہدیداروں کی تعیناتی میں بھی مداخلت کر رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے اسے امریکہ و اسرائیل کا تابع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی تابعداری یمن کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کے تسلسل کا باعث بنی۔
سید عبدالمالک الحوثی نے علاقائی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کو تبدیل کرنے اور گریٹر اسرائیل کے قیام کا منصوبہ نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس منصوبے میں وہ دوسرے ممالک کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہے ہی۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کو اس جارحیت کے نتائج کی کوئی پرواہ نہیں۔
تنقید کی بجائے ایران کی مزاحمت کو سراہنا چاہئے
انصار اللہ کے رہنما نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے بغیر کسی جواز کے کئے گئے۔ جوابی کارروائی ایران کا حق ہے جسے عالمی استعماری طاقتوں کی جانب سے مورد تنقید ٹہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ و اسرائیل کو ایران کے خلاف اس ظالمانہ اور بلاوجہ حملے کے نتائج کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہیں اس حملے سے عالمی معیشت کے متاثر ہونے کی بھی پرواہ نہیں۔ امریکہ و اسرائیل کا واحد مقصد دوسرے ممالک کے معاشی مفادات سے بے نیاز ہو کر اپنا صیہونی منصوبہ نافذ کرنا ہے۔ امریکہ و اسرائیل دوسروں کو بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف حملے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنا خطرناک منصوبہ آگے بڑھا سکیں۔
انہوں نے یورپی ممالک، آسٹریلیا اور چین کو بھی اپنے موقف پر لانے کی کوشش کی۔ یمن میں انقلاب کے روح رواں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کچھ علاقائی عرب ممالک امریکہ و اسرائیل کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ ایران کے خلاف حملے کی حمایت کے لئے اپنے پیسے اور میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔
حالانکہ ایران، عرب ممالک میں صرف امریکی اڈوں کو جوابی کارروائی کے لئے نشانہ بنا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ جو لوگ ایران کو ملامت کر رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایرانی عوام ہار تسلیم کر لے اور امریکی حملوں کے سامنے کوئی ردعمل نہ دے۔ دوسری جانب یہی عناصر بلا جواز امریکہ کو پیسے، ہتھیاروں، فوجی اڈوں اور سیاسی و میڈیا کی حمایت کے ذریعے سپورٹ کرتے ہیں۔
انصار اللہ کے رہنما نے کہا کہ علاقے میں ایران کے خلاف کچھ حکومتوں کی مداخلت، ان کی اپنی عوام اور پورے خطے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ امریکہ نے بعض عرب ممالک کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ جن کا بنیادی کام امریکی اڈوں کی حفاظت اور ان کے اخراجات برداشت کرنا ہے۔
یمن غیر جانبدار نہیں ہے
آخر میں سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ پورے خطے میں صیہونی منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے ایک منظم امریکی-اسرائیلی جارحیت ہے۔ اس وقت انسانی، مذہبی اور اخلاقی بنیادوں پر امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف حملے پر ایک متحد موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ ایرانی قوم کا استحکام اور اس کی فوجی صلاحیتوں نے دشمنوں کو مایوس کر دیا ہے۔
نیز علاقائی اقوام میں مزاحمت کے جذبے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے۔ انہوں نے یمن کے موقف کے بارے میں کہا کہ یمن اس صورتحال میں غیر جانبدار نہیں۔ یمن، امت مسلمہ کی حمایت اور صیہونی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے تناظر میں کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم پر جارحیت مسلط ہوئی تو ایران واحد ملک تھا جس نے ہماری مدد کی۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ ہم امت مسلمہ کی آزادی اور وقار کے ساتھ ہیں۔
ہم اعلان کرتے ہیں کہ اپنے اسلامی فرض، اللہ کی راہ میں طاغوتِ عصر یعنی صیہونی یہود اور اس کے امریکی بازو کے خلاف جہاد کرنے میں کبھی دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میدان جنگ میں جب بھی کسی فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی، ہم اللہ پر توکل اور ماضی کی طرح اعتماد کے ساتھ میدان میں حاضر ہوں گے۔