خدا ایران کے ساتھ ہے!

تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

امریکہ نے ایران کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ 48 گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کو کھول دے۔ امریکہ کے ایران کو الٹی میٹم دینے کی تاریخ پرانی ہے۔ لیکن اس کے جواب میں ایران نے ہمیشہ اس کی گردن میں  ذلت کا طوق ڈالا ہے۔

”آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی“۔ جب 4 نومبر 1979ء کو ایرانی طلباء نے امریکی سفارت خانے، جو حقیقت میں ”جاسوسی کا اڈا“ تھا ، کے عملے کو یرغمال بنا لیا تو امریکہ نے ایران کو بارہا اسی طرح کے کئی الٹی میٹم دیے کہ وہ ان یرغمالیوں کو فوری رہا کرے لیکن ایران نے امریکہ کے دیے گئے کسی الٹی میٹم پر کان نہ دھرا۔

آخر امریکہ نے اپنے کسی زعم میں، ایران پر فضائی حملہ کر دیا لیکن ”صحرائے طبس“ میں چلنے والے ریت کے طوفان نے اس کے غرور کو ہوا میں اڑا دیا اور اس کے بھیجے گئے طیارے آپس میں ہی ٹکرا کر زمیں بوس ہوگئے۔ اس خدائی مدد کے نتیجے میں آٹھ امریکی فوجی ریگ صحرا میں غلط ملط ہوگئے۔

نشان عبرت بننے والے ان امریکیوں کے ”اجسامِ سوختہ“ کو بعد میں ”پلاسٹک بیگز“ میں لپیٹ کر امریکہ روانہ کیا گیا تاکہ ان کی عبرت کا نظارہ ہر کوئی کر سکے۔

”دیکھو مجھے جو دیدہءعبرت نگاہ ہو“۔ امریکہ کی اس ناکامی پر امریکہ کے اس وقت کے صدر جمی کارٹر کو آخر کہنا پڑا کہ ”لگتا ہے خدا بھی ایران کے ساتھ ہے“۔ آخر ایران نے ان یرغمالیوں کو 444 دن تک اپنا مہمان بنائے رکھنے کے بعد اپنی شرائط پر تحفے تحائف دے کر رہا کر دیا۔ صدر کارٹر ایک دوراندیش شخص تھے۔

انہوں نے ”واقعہ طبس“ سے سبق حاصل کیا اور پھر انہوں نے ایک وقت میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کے انجام کو بھی اسی عبرت انگیز واقعے کے ”جام جہاں نما“ میں اپنی دوربین نگاہوں سے دیکھا اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد 2015ء میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہ کر اسرائیل کے وجود پر سوالیہ نشان کا ”ٹیٹو“ (Tattoo) بنا دیا:

“The current situation is not sustainable… Israel cannot remain both a Jewish state and a democratic state if it continues to control Palestinian territory.

” ترجمہ: موجودہ صورتحال برقرار نہیں رہ سکتی، اگر اسرائیل فلسطینی علاقوں پر کنٹرول جاری رکھتا ہے تو وہ بیک وقت ایک یہودی اور جمہوری ریاست نہیں رہ سکتا۔ آج کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب، جن کی عقل و نظر کا دامن انتہائی تنگ ہے اور جو ایران کی تاریخ سے نابلد ہیں، بغیر سوچے سمجھے ایران کو ایک ایسا الٹی میٹم دے بیٹھے ہیں جو انہیں الٹا پڑ سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ”آج بھی خدا ایران کے ساتھ ہے“۔

Scroll to Top