ایران میں امریکی و اسرائیلی اہداف کی ناکامی

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

حالیہ دنوں پاکستان کے پڑوسی اور اسلامی برادر ملک ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت جاری ہے۔ اس جارحیت کی تاریخ کوئی نئی نہیں بلکہ پرانی ہے۔ عالمی استکباری قوتوں نے ہمیشہ ایران میں اپنے پنجے گاڑھنے کے لئے موقع تلاش کیا ہے۔ سنہ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے دنیا کے استعماری و استکباری نظام کو گہری چوٹ پہنچائی تھی اور آج تک اس چوٹ سے خون رستا نظرا ٓتا ہے کہ جب امریکہ اور مغربی ممالک ایران کےخلاف اپنی جھوٹ اور من گھڑت سیاست پر مبنی پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ عالمی قوانین دنیا کے ہر آزاد اور خود مختار ملک کی سلامتی اور خود مختاری کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔ عالمی قوانین ہر ریاست کو اس کے اپنے دفاع اور ترقی کے لئے ممکنہ اقدامات کی اجازت دیتے ہیں۔

دنیا میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے کہ جو یہ کہتا ہوں کہ امریکہ کو تمام تر ترقی اور ٹیکنالوجی تک رسائی کا حق ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک یا بالخصوص ایران کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امریکہ جس کو پاکستان نے ہمیشہ اپنا دوست مانا ہے اسی امریکی حکومت نے سنہ 1998ء میں جب پاکستان نے ہندوستان کے مقابلہ میں ایٹمی تجربات کئے تھے تو پاکستان پر پابندیاں لگائی گئیں تھیں جو سراسر عالمی قوانین کے خلاف پاکستان پر ایک ظلم کے مترادف تھیں۔ آج بھی امریکی و مغربی دنیا کے ممالک کھلم کھلا کہتے ہیں کہ وینزویلا کے تیل پر امریکہ کا حق ہے، ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر امریکہ کا حق ہے۔ آخر یہ کون سا قانون ہے جو دنیا میں دوسرے ممالک کو کسی اور ملک میں دخل اندازی کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کا حق دیتا ہے؟ یقینی طور پر یہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہے۔

مغربی ایشیاء کی سیاست کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ اس خطے پر ہمیشہ عالمی طاقتوں کی نظریں رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں موجود تیل و گیس کے وسیع ذخائر اور اہم جغرافیائی راستے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر ایران بھی کئی دہائیوں سے عالمی سیاسی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف اپنی آزاد خارجہ پالیسی رکھتا ہے بلکہ خطے میں مظلوم اقوام، خصوصاً فلسطین کے حق میں بھی واضح مؤقف اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو کمزور کرنے کے مختلف منصوبوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ کبھی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے، کبھی سفارتی دباؤ کے ذریعے اور کبھی میڈیا کے ذریعے ایران کے خلاف ایک ماحول بنانے کی کوشش کی گئی۔ اب ایران پر براہ راست جنگ مسلطکی گئی ہے۔ حالانکہ یہی جنگ انہوں نے چھ ماہ قبل بھی مسلط کی تھی لیکن ناکام ہوگئے تھے اور اب ایک مرتبہ پھر ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔ یہی وسائل عالمی طاقتوں کے لئے ہمیشہ کشش کا باعث رہے ہیں۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر اس ملک کو کمزور کر دیا جائے تو اس کے قدرتی وسائل پر اثر و رسوخ حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ بعض بین الاقوامی تھنک ٹینکس اور تجزیہ کاروں نے اس سے بھی زیادہ خطرناک نظریات پیش کئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو کمزور کرنے کے لئے اسے نسلی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے منصوبے بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔ ایران میں فارسی، آذری، کرد، عرب اور بلوچ سمیت مختلف قومیتیں آباد ہیں۔ بیرونی قوتیں اکثر ان تنوعات کو استعمال کرکے ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ایران کی قوم نے ہمیشہ ایسے منصوبوں کا مقابلہ کیا ہے۔ یہاں پر ایک تازہ مثال یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ چند ماہ قبل ایران میں جو دہشتگردانہ حملےکئے گئے اور لوگوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ مساجد ، مقدس مقامات، سرکاری عمارتوں کو اور اسی طرح متعدد املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ہزاروں نہتے شہریوں کو قتل کیا گیا، کئی ایک افراد کو باقاعدہ ذبح کیا گیا، ان سب کا مقصد ایران کو تقسیم کرنا تھا نہ کہ رجیم چینج کرنا لیکن اس دہشتگردانہ حملوں میں بھی امریکہ اور اسرائیل سمیت تمام دشمنوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ان تمام سازشوں کے مقابلہ میں ایرانی عوام نے اپنے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ایران آج بھی ایک مضبوط ریاست کے طور پر موجود ہے۔

مغربی ایشیاء کی حالیہ تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ عراق، شام اور لیبیا جیسے ممالک میں بیرونی مداخلت نے کس طرح تباہی اور عدم استحکام کو جنم دیا، یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جب بھی کسی ملک میں باہر سے نظام بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتائج پورے خطے کے لئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں بھی ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے، نہتے شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اسکولوں اور مدارس کی عمارتوں پر بمباری کی جا رہی ہے، معصوم بچیوں کو اسکول میں قتل کیا گیا ہے، اسپتالوں پر بمباری کی جا رہی ہے، ایمبولینسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ اور اسرائیل براہ راست ایران میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کی ہے اور دنیا کو بتایا ہے کہ ہم ایران میں حکومت کو تبدیل کریں گے یعنی رجیم چینج۔ اسی طرح امریکہ نے اس جنگ کا ہدف یہ بھی قرار دیا ہے کہ وہ ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر کو امریکی کنٹرول میں لیں گے جیسا انہوں نے وینزویلا میں صدر مادورو کو اغوا کرنے کے بعد کیا۔ اسی طرح امریکی حکومت نے اس جنگ کو مسلط کرنے کا ایک ہدف یہ بھی قرار دے رکھا ہے کہ ایران کو پانچ مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں مذہب، لسان اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔ ان تمام اہداف کے حصول کے لئے امریکی صدر ٹرمپ نے تین دن کا وقت معین کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ امریکہ تین دن میں یہ تمام اہداف حاصل کرے گا۔

نتیجہ میں آج جنگ پندرہ روز سے زیادہ عرصہ میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا لیکن رجیم چینج تو دور کی بات ہے کہ امریکی حکومت ایران اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کا وہ تاریخی نعرہ بھی تبدیل نہیں کر سکی جو آیت اللہ علی خامنہ ای کے لئے تھا، یعنی اللہ اکبر خامنہ ای رہبر، آج بھی ایران سمیت دنیا بھر میں لوگ یہی نعرہ لگاتے ہیں جو امریکہ کی شکست اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر کو امریکی تحویل میں لیں گے یہ بھی امریکی صدر کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے کہ اب آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایران کے تیل پر قبضہ تو دور کی بات ہے مغربی دنیا کو اپنے لئے تیل کی محتاجی شروع ہو چکی ہے۔

جنگ کے پندھرویں روز میں دنیا میں تیل کی قیمت دوگنی ہو چکی ہے اور مزید آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔ امریکی حکومت جو ہمیشہ سے غرب ایشیائی ممالک کو تقسیم کرنا چاہتی ہے اور ان میں چھوٹے چھوٹے ممالک مذہب، لسان، قومیت اور دیگر بنیادوں پر قائم کر کے یہاں کے وسائل کو آسانی سے اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے ایران میں ایک بڑی جنگ مسلط کرنے کے باوجود بھی امریکہ کو شکست کا سامنا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کے عرب و غرب کی اتحادی سب کے سب ایران کے معاملہ میں اپنے حساب کتاب میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران بہادری کے ساتھ دنیا بھر کی طاقتوں کا مقابلہ تن و تنہا کر رہا ہے۔

اگر دنیا چاہتی ہے کہ اس جنگ کا اختتام ہو جائے اور ایران کے ساتھ ساتھ دنیا کی دیگر اقوام اور ممالک بھی اس جنگ کی قیمت ادا نہ کریں تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔ طاقت کی سیاست کے بجائے مکالمہ، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی عالمی نظام ہی دنیا کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی مغربی ایشیاء میں امن چاہتی ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ملک کو کمزور کرنے یا تقسیم کرنے کے منصوبے نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ یہ پورے خطے کو ایک نئی کشیدگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام اقوام کی آزادی، خودمختاری اور وسائل پر ان کے حق کو تسلیم کیا جائے۔

Scroll to Top