حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر عملے کے 6 اراکین سوار تھے جن میں سے تمام کی ہلاکت ہوئی۔ حکام کے مطابق ہلاک شدگان کے اہلخانہ کو مطلع کرنے کے بعد اُن کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔
سینٹ کام کے مطابق کے سی 135 ریفیولنگ طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو، ریسکیو آپریشن جاری ہے، واقعے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کررہے ہیں، ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت 24 گھنٹے تک خفیہ رکھی جائے گی۔
امریکی حکام کے مطابق اس واقعے میں دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا تھا، لیکن ایک طیارے کو حادثہ پیش آیا۔ ایندھن بھرنے والا طیارہ فضا میں لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے کام آتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ ایک عسکریت پسند گروہ نے عراق میں امریکی فوجی طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ کے مطابق اس نے امریکی فوجی طیارے کو ‘عراق کی قومی خودمختاری اور فضائی حدود کے دفاع’ میں نشانہ بنایا۔
خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کے بعد سے لے کر اب تک 6 امریکی طیاروں کی تباہی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایندھن بھرنے والے طیارے کے اس حادثے سے قبل یکم مارچ کو امریکہ کے تین ایف-15 طیارے تباہ ہو گئے تھے۔
عراق کے مغربی علاقے میں امریکی فوج کے ایک KC‑135 ریفیولنگ طیارے کے حادثے میں چھ امریکی سروس ممبرز ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ ایک دوسرے امریکی طیارے کے ساتھ آپریشن کے دوران حادثاتی طور پر کریش کر گیا۔ خوش قسمتی سے دوسرے طیارے کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حادثہ دشمن کی کارروائی یا دشمن کے فائر کی وجہ سے نہیں ہوا اور تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ طیارہ ایک فوجی آپریشن کے دوران ہوا میں دیگر طیاروں کو ایندھن فراہم کر رہا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کے لیے یہ ایک سنگین نقصان ہے، اور امریکی حکام کے لیے یہ دھچکا امریکی فوجی طاقت کے لیے بھی ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔