خدا فرعون کو ایک بار پھر غرق کر دے گا

تحریر: نرجس سادات موسوی

“اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا” یہ آیت نہ صرف ایک خوشخبری ہے بلکہ ایک تنبیہ بھی ہے۔ یہ ایران، فلسطین، یمن، لبنان اور عراق میں حق کے محاذ کے تمام مجاہدین کو خوشخبری دیتی ہے کہ وہ اس نابرابر جنگ میں اکیلے نہیں ہیں اور ایک لامحدود طاقت ان کی پشت پناہ ہے اور اس میدان میں خدا فرعون کو ایک بار پھر غرق کر دے گا۔
کبھی آپ نے “ایک آیت کے ساتھ زندگی” کا لطف اٹھایا ہے؟ وہ لمحہ جب مشکل کی شدت میں اچانک ایک آیت آپ کے دل میں اترتی ہے اور تمام پریشانیوں کو دھو دیتی ہے۔ یا کسی تقدیر ساز دوراہے پر قرآن کا کوئی کلام روشن چراغ کی طرح آگے کی راہ روشن کر دیتا ہے؛ ایک ایسی آیت جو اب محض کاغذ پر موجود متن نہیں رہتی، بلکہ ایک قریبی دوست، ایک دانا مشیر اور محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ یہ تجربہ وہی کیمیا ہے جو آج کی دنیا کے شور شرابے میں روح کو زندہ رکھتا ہے۔
“اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا” (سورہ صافات، آیت 173)
اگر خدا کا لشکر یقینی طور پر فاتح ہے، تو پھر تاریخ میں حق کے محاذ کو درپیش بعض بظاہر شکستوں کی کیا وجہ ہے؟ دنیاوی پیمانوں سے، جیسے بھی حساب لگائیں، حسین بن علی (علیہ السلام) کربلا میں شکست کھا چکے تھے۔ کوفیوں نے انہیں تیس ہزار خطوط لکھ کر “جان نثار” کہا تھا اور ان کے دستخطوں کی سیاہی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ انہوں نے اپنی بات پھیر لی۔ وہ 72 افراد کے ساتھ ابن زیاد کی بے شمار فوج سے لڑے اور دشمن نے بے رحمی سے سب کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا۔ ان کے خیمے جلائے گئے، ان کی عورتیں اور بچے قید ہوئے۔ لیکن تاریخ نے دکھا دیا کہ حق کی فتح چھوٹے میدانوں سے ماورا ہے، وہ کائنات کا فاتح اور مستقبل کا غالب ہے، کیونکہ خدا کا لشکر فاتح ہے، چاہے تنگ نظر آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہی کیوں نہ ہوں۔
ایک نشوونما کا آغاز:
گندم کے ایک دانے کو دیکھیں۔ اسے مٹی میں ڈالیں، اوپر سے سیاہ مٹی کی تہہ سے ڈھانپ دیں اور مکمل تاریکی میں چھوڑ دیں۔ ایک بچے کی نظر میں یہ دانے کا خاتمہ ہے۔ وہ دفن ہو چکا ہے اور مٹی کے دباؤ میں تباہ ہو رہا ہے۔ یہ “شکست” کی مکمل تصویر ہے۔ تاریخ کا منظر کبھی بالکل ایسا ہی نظر آتا ہے۔ حق طلب کا ایک چھوٹا سا گروہ باطل کی عظیم فوج سے گھر جاتا ہے۔ تلواریں برستی ہیں، آوازیں خاموش ہو جاتی ہں اور ان کا آخری فرد تنہائی میں جان دیتا ہے۔ ظواہر بے رحمی اور فیصلہ کن انداز میں “شکست” کا حکم دیتے ہیں۔
تاریخ کا فاتح:
کربلا میں بھی “ظواہر یہی حکم دے رہے تھے کہ یہ شعلہ صحرائے کربلا میں بجھ جائے گا۔ شاعر “فرزدق” نے تو یہ دیکھا، لیکن امام حسین (علیہ السلام) نے نہ دیکھا؟! کوفے سے آنے والے نصیحت کرنے والوں نے دیکھا، لیکن حسین بن علی (علیہ السلام) جو عین اللہ تھے، نے نہ دیکھا اور نہ سمجھا؟ ظواہر یہی تھے؛ لیکن خدا پر بھروسہ یہ حکم دے رہا تھا کہ ان ظواہر کے باوجود وہ یقین کریں کہ حق کا کلام اور درست بات غالب آئے گی۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے: “اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا”۔ وہ دیکھ رہے تھے، لیکن ظواہر سے زیادہ گہری چیز دیکھ رہے تھے۔ وہ منظر کو سطحی ناظر کی آنکھ سے نہیں، بلکہ ایک الہی باغبان کی آنکھ سے دیکھ رہے تھے۔ باغبان جانتا ہے کہ ایک صحت مند دانے کا “دفن ہونا” اس کا خاتمہ نہیں، بلکہ نشوونما کی شرط ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ باطل کی تباہی کے راستے کی فطرت ہے اور حقیقی اور دعویدار مومن کو پرکھنے کا امتحان ہے۔
آج، تاریخ اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ اس لشکر سے جو بظاہر فاتح تھا، صرف لعنت اور نفرت کے ساتھ ایک نام باقی رہ گیا ہے۔ لیکن امام کے “ہیهات منا الذلة” کے نعرے نے ایک زندہ اور متاثر کن مکتب فکر میں تبدیل ہو کر دنیا کے تمام آزادوں کو متاثر کیا۔ تو حقیقی فاتح کون تھا؟
خوشخبری اور تنبیہ دونوں:
یہ آیت، خوشخبری بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ یہ ایران، فلسطین، یمن، لبنان اور عراق میں حق کے محاذ کے تمام مجاہدین کو خوشخبری دیتی ہے کہ وہ اس نابرابر جنگ میں اکیلے نہیں ہیں اور ایک لامحدود طاقت ان کی پشت پناہ ہے اور اس میدان میں خدا فرعون کو ایک بار پھر غرق کر دے گا۔ “اور اللہ تعالیٰ قوم ایران کو، حقیقت کو اور حق کو، یقینی طور پر، ان شاء اللہ، فتح یاب کرے گا۔” لیکن تنبیہ دیتی ہے کہ یہ فتح ہمارے “جندنا” (خدا کا لشکر) کے دائرے میں رہنے پر مشروط ہے؛ ایک ایسا لشکر جو اپنے احکام خدا اور اس کی کتاب سے لیتا ہے، نہ کہ بین الاقوامی دباؤ، استکباریوں کے زیر اثر اداروں کی قراردادوں یا پابندیوں کے خوف سے؛ ایک لشکر جو اپنی طاقت خدا کے لازوال منبع سے جوڑے رکھتا ہے۔ ہاں، جو لشکر دشمن کی خوشنودی کے لیے اپنے اصولوں سے دستبردار ہو جائے یا اس کی ظاہری طاقت سے مرعوب ہو جائے، وہ “جندنا” نہیں رہتا کہ وعدہ “لَهُمُ الْغَالِبُونَ” کے پورا ہونے کا منتظر رہے۔
آیت کے ساتھ عمل اور زندگی:
* خدا کے لشکر کی فتح یقینی ہے؛ تمہارا کام “جیتنے” کے لیے لڑنا نہیں، بلکہ “قائم رہنے” کے لیے لڑنا ہے۔ خبردار، جنگی جہازوں اور B2 طیاروں کے میدان میں خدا کی مدد سے مایوسی، اس فاتح ٹیم سے علیحدگی کی درخواست کی طرح ہے۔
* جب دشمن کا جدید ساز و سامان تمہاری آنکھیں چُندھیا دے، تو یاد رکھنا تم اس فوج کے سپاہی ہو جس کی فتح خدا نے ضمانت میں لے رکھی ہے۔ ایمان کے ساتھ لڑو۔ تم صرف ایک سپاہی نہیں ہو؛ تم ایک یقینی وعدے کے نفاذ کرنے والے ہو۔
* کیا تم ایک باپ ہو جو اپنے بچے کے مستقبل کی فکر کرتے ہو اور ڈرتے ہو کہ فساد کی اس دنیا میں وہ ناکام ہو جائے؟ آج رات اسے سکھاؤ کہ خدا کی ٹیم میں ہونا اہم ہے، نہ کہ ہر چھوٹے کھیل میں جیتنا۔
* کیا تم ایک طالب علم ہو اور یونیورسٹی میں فساد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہو اور سب تمہاا مذاق اڑا رہے ہیں؟ پہلے سے زیادہ مضبوطی سے آواز بلند کرو۔ تم خدا کے لشکر میں ہو اور یہ لشکر آخرکار فاتح ہے، چاہے آج تم تنہا ہی کیوں نہ ہو۔
Scroll to Top