قاری قرآن آیت اللہ خامنہ ایؒ ! زندگی بھی قرآن کے ساتھ، شہادت بھی

شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو قرآنِ کریم سے اُن کی گہری وابستگی اور روحانی تعلق تھا قرآن اُن کی شخصیت، فکر اور قیادت کا مرکز رہا۔ اُن کی تقریروں، دروس اور مجالس میں بارہا قرآن کی تعلیمات نمایاں نظر آتی تھیں۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اسلامی معاشرہ صرف اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب اس کی بنیاد قرآن کی ہدایات پر قائم ہو۔

آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف قرآن کی تلاوت سے خصوصی شغف رکھتے تھے بلکہ وہ باقاعدگی سے قرآنی محافل اور نشستوں کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ رمضان المبارک کے ایام میں ان کی طرف سے منعقد ہونے والی قرآنی محفلیں ایران بھر میں ایک روحانی روایت کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں جہاں نامور قراء اور نوجوان تلاوتِ قرآن کا شرف حاصل کرتے تھے۔

 شہادت سے چند روز قبل بھی ایک روحانی اور باوقار محفلِ قرآن منعقد کی گئی جس میں انہوں نے قرآن کی اہمیت، امتِ مسلمہ کی رہنمائی اور قرآنی تعلیمات کے عملی نفاذ پر گفتگو کی۔ یہ محفل گویا اُن کی زندگی کے آخری پیغامات میں سے ایک ثابت ہوئی جس میں انہوں نے قرآن کو امت کی نجات کا واحد راستہ قرار دیا۔

ان کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق جب آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوئے تو وہ اسی وقت قرآنِ کریم کی تلاوت میں مصروف تھے۔ یوں اُن کی زندگی کا اختتام بھی اسی کتابِ الٰہی کے ساتھ ہوا جس سے وہ پوری زندگی محبت کرتے رہے۔ یہ منظر اُن کی روحانی زندگی کی گہرائی اور قرآن سے اُن کی بے مثال وابستگی کی علامت بن گیا۔

Scroll to Top