اپوزیشن اتحاد (تحریک تحفظ آئین پاکستان) نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر بورڈ آف پیس سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفی نواز کھوکھر، ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں نے مشرقی وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر اسلام آباد میں ہفتے کی شام اہم پریس کانفرنس کی۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آج ایک حساس مسئلے پر پریس کانفرنس کرنے آئے ہیں، اسرائیل اور امریکا نے پوری دنیا اور پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا، دونوں ممالک نے ملکر ہمارے ہمسایہ ملک ایران پر حملہ کیا اور یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مذاکرات جاری تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنیوا میں بات چیت کا تیسرا مرحلہ چل رہا تھا مگر دو ایٹمی طاقتوں نے حملہ کردیا، امریکا ہزاروں کلومیٹر دور سے آیا، فورسز کی اتنی بڑی موبالائزیشن ورلڈ واڑ ٹو کے بعد نہیں دیکھی تھی۔
سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ امریکی صدر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی کہاوت کو لے کر آگے چل رہے ہیں، وینوزیلا ے ساتھ جو کیا وہ آپ کے سامنے ہے اور ٹرمپ جو کچھ کررہا ہے اُسے لوگ بھول رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اسرائیل سے خطے کے دوسرے ممالک بھی نفرت کرتے ہیں۔
نیتن یاہو کو قاتل قرار دیا گیا ہے، خدانخواستہ اگر ایران کو کچھ ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کی بھی خیر نہیں اور پورا خطہ ٹوٹ جائے گا۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کسی کو حق نہیں ہے ایران کی زمینی، بحری اور فضائی حدود میں داخل ہو
دوسرا انسانی مسئلہ بھی ہے، لوگ مارے جارہے ہیں، بچیوں کے ساکول پر حملہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے اقدامات سے پاکستان کی سالمیت اور پوری مسلم امت کو خطرہ ہے، سب سے پہلے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ عمل کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہے، بہت سے ملک اس کی مذمت کر رہے ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ اسکیخلاف کھڑا ہو۔
سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اگر ان ظالموں کا مقابلہ شروع ہو جائے تو یہ کبھی جرات نہ کریں، مسلم امت کو حق ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل پر حملہ کریں، جہاں بھی ان کے فوجی ہیں وہاں حملہ کریں۔