دو ہزار پچیس صحافیوں کے لیے خطرناک ترین سال، دو تہائی اموات کا ذمہ دار اسرائیل نکلا

بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یعنی سی پی جے کی خصوصی رپورٹ کے مطابق سال 2025 صحافت کے لیے انتہائی خونی سال ثابت ہوا ہے۔

اس سال مجموعی طور پر 129 صحافی اور میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے۔

تنظیم کے مطابق یہ تعداد گزشتہ 3 دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ہے، جب سے سی پی جے نے 1992 میں باقاعدہ ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا۔

مسلسل دوسرا سالانہ ریکارڈ

رپورٹ کے مطابق یہ دوسرا مسلسل سال ہے جب صحافیوں کی ہلاکتوں کا سالانہ ریکارڈ ٹوٹا ہے۔

دوہزار چوبیس کے بعد 2025 میں بھی اموات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، جس نے عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اسرائیل پر دو تہائی ہلاکتوں کی ذمہ داری

سی پی جے کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 اور 2025 دونوں برسوں میں مجموعی صحافتی ہلاکتوں کے تقریباً دو تہائی واقعات کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز یعنی آئی ڈی ایف نے 1992 سے اب تک کسی بھی حکومتی فوج کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹارگٹ کلنگز کی ہیں۔

ڈرون حملوں میں خطرناک اضافہ

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

دوہزارتئیس میں جہاں پہلی بار ایسے 2 واقعات ریکارڈ کیے گئے، وہیں 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 39 تک جا پہنچی۔

ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے صحافیوں کے لیے میدانِ جنگ میں خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

تنازعات زدہ علاقوں میں زیادہ اموات

ایک سو29 میں سے کم از کم 104 صحافی 2025 کے دوران مسلح تنازعات کے ماحول میں مارے گئے۔

اگرچہ یوکرین اور سوڈان میں بھی صحافیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم اکثریت فلسطینی صحافیوں کی تھی جو اسرائیلی کارروائیوں میں جان سے گئے۔

احتساب کا فقدان

سی پی جے کا کہنا ہے کہ 2025 میں دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے ٹارگٹ حملوں کے زیادہ تر واقعات کی شفاف تحقیقات نہیں ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق اب تک کسی بھی کیس میں کسی ذمہ دار کو کٹہرے میں نہیں لایا گیا، جو عالمی سطح پر انصاف اور احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ اظہارِ رائے کی آزادی اور آزاد صحافت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top