تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کے فوری علاج اور رہائی کا مطالبہ، سیاسی و معاشی صورتحال پر شدید تحفظات

اسلام آباد میں قومی اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر کے فوری علاج کی سہولت فراہم کرنے، ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقاتوں پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں ملکی سلامتی، دہشت گردی، افغانستان سے کشیدگی، معاشی بحران اور خطے کی بدلتی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

پس منظر اور مطالبات

اسلام آباد میں مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر افطار کے موقع پر منعقدہ تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو طبی معائنے کی اجازت دی جائے جبکہ طبی رپورٹس اہل خانہ کے ساتھ شیئر کی جائیں۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صحت سے متعلق معلومات کو خفیہ رکھنا تشویش کا باعث ہے اور اس طرز عمل سے سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا سمیت دیگر سیاسی اسیران شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور علی وزیر  کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

قومی سلامتی اور دہشت گردی پر تشویش

ٹی ٹی اے پی قیادت نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر جامع قومی حکمت عملی مرتب کی جائے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور بامعنی مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

خطے کی صورتحال اور ایران سے متعلق خدشات

اپوزیشن رہنماؤں نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کی خبروں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے فعال سفارتی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ کے بادل پاکستان کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

معاشی بحران اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید

اجلاس میں معاشی صورتحال پر سخت تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ غربت میں اضافہ اور بے روزگاری بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے معاشی دعوؤں کے برعکس سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے اور بڑی کمپنیوں کا انخلا تشویشناک ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ وہ ماہرین کی مدد سے متبادل بجٹ اور پالیسی تجاویز پیش کریں گے تاکہ ملک کو درپیش معاشی اور آئینی بحرانوں کا حل نکالا جا سکے۔

Scroll to Top