مودی کا دورہ تل‌ ابیب اور پاکستان کی سلامتی کے لیے درپیش نئے چیلنجز

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ تک ابیب محض ایک سفارتی مہم نہیں بلکہ اس کو جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے بدلتے حالات کا اہم حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو کو غزہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر شدید تنقید اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے۔ عالمی عدالت کی جانب سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ نے بھی سفارتی فضا کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود نئی دہلی اور تک ابیب کے درمیان غیرمعمولی گرمجوشی نے واضح کیا کہ دونوں ممالک اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

یہ مودی کا وزارت عظمی کے دوران دوسرا باضابطہ دورہ ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے دفاعی، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی روابط اب وقتی مفادات سے آگے بڑھ کر طویل المدتی منصوبہ بندی کا حصہ بن چکے ہیں۔ بھارت پہلے ہی اسرائیل سے ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل دفاعی نظام اور نگرانی کے جدید آلات حاصل کرچکا ہے۔

اسلام‌آباد کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر بھارت کو اسرائیلی عسکری ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس سپورٹ مسلسل اور وسیع پیمانے پر میسر رہتی ہے تو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن مزید دہلی کے حق میں جھک سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مغربی ایشیا میں ابھرتے ہوئے نئے اتحاد اور سفارتی صف بندیاں بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نئی آزمائشیں پیدا کرسکتی ہیں۔

بھارت–اسرائیل دفاعی تعاون کا نیا مرحلہ

2017 سے بھارت اور اسرائیل کے تعلقات میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں دونوں ممالک کے دفاعی اور ٹیکنالوجی روابط ایک نئے اسٹریٹجک فریم ورک میں داخل ہوچکے ہیں۔ اس وقت بھارت اسرائیل سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا ہے، اور دوطرفہ تعاون میزائل دفاعی نظام، حملہ آور ڈرونز، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید عسکری ٹیکنالوجیز تک پھیل چکا ہے۔

علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حالیہ دورے کے دوران اہم موضوعات میں لیزر فضائی دفاعی نظام کی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور میزائل شکن نظاموں کی مشترکہ تیاری کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ اگر یہ تعاون عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست بھارت کی دفاعی صلاحیت، خصوصا پاکستان کے مقابلے میں اس کی ڈیٹرنس پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ فضائی جھڑپوں نے واضح کیا تھا کہ دہلی اور اسلام‌آباد کے درمیان ہتھیاروں کا مقابلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

کچھ سابق پاکستانی سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ نیا معاہدہ اس دفاعی اسٹریٹجک سمجھوتے کے ہم پلہ ہوسکتا ہے جو گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا تھا۔ ان کے مطابق، اسرائیل خطے میں ایک ایسے سکیورٹی نیٹ ورک کی تشکیل میں مصروف ہے جس میں بھارت کو مرکزی کردار دیا جارہا ہے۔ یہ پیش رفت جنوبی ایشیا کی طاقت کی بساط پر دیرپا اثرات ڈال سکتی ہے۔

نتن یاہو کا “شش ضلعی اتحاد” اور پاکستان کے لیے اس کے مضمرات

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے مودی کے دورے سے قبل ایک مجوزہ منصوبے کا ذکر کیا جسے انہوں نے “شش ضلعی اتحادوں” کا نام دیا۔ ان کے بقول یہ ایک علاقائی فریم ورک ہوگا جس کی محوریت بھارت کے گرد ہوگی اور اس میں بعض یورپی، عرب اور ایشیائی ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کی تفصیلات باضابطہ طور پر منظرعام پر نہیں آئیں، تاہم اس کا مقصد ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہے جنہیں تل ابیب “ریڈیکل محاذ” قرار دیتا ہے۔

ایسے وقت میں جب ترکی غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں کا سخت ناقد ہے اور پاکستان نے بھی سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو وسعت دی ہے، بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تل‌ ابیب اسلام‌آباد کو ان ریاستوں میں شمار کرتا ہے جنہیں علاقائی مہار کی حکمت عملی میں پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے، اور یہی حقیقت اسرائیلی سکیورٹی حکمت عملی میں اسے ایک خاص مقام دیتی رہی ہے۔

تاہم کئی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطرہ لازما براہ راست عسکری نوعیت کا نہیں ہوگا، بلکہ ممکن ہے کہ یہ ایک مشترکہ بیانیے اور سکیورٹی ہم آہنگی کی صورت میں ظاہر ہو۔ اس تناظر میں بھارت، اسرائیل اور بعض مغربی طاقتیں اسلام‌آباد کو انتہا پسندی کے فریم میں پیش کرسکتی ہیں، جس سے سیاسی اور سفارتی دباؤ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور نتن یاہو کی پالیسیوں میں ایک نمایاں مماثلت اس امر پر زور ہے جسے وہ “اسلامی انتہا پسندی” کہتے ہیں۔ بھارت متعدد بار کشمیر کے تناظر میں پاکستان پر مسلح گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ اسرائیل فلسطینی مزاحمت کو اسی بیانیے میں رکھتا ہے۔ یہ فکری ہم آہنگی دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسیوں کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ اگر یہ روابط مزید مضبوط ہوتے ہیں اور حساس معلومات کے تبادلے یا سائبر نگرانی اور ڈیجیٹل جنگی ٹیکنالوجی میں تعاون تک پھیلتے ہیں تو اسلام‌آباد کے لیے یہ ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔

خلیج فارس میں بدلتی صف بندیاں اور پاکستان کا امتحان

پاکستان کے لیے بھارت اور اسرائیل کی قربت کا سب سے حساس اثر خلیج فارس کے میدان میں محسوس ہوسکتا ہے۔ پاکستانی معیشت بڑی حد تک عرب ممالک کی مالی معاونت، ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری پر انحصار کرتی ہے۔ گزشتہ برس اسلام‌آباد اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا دفاعی اسٹریٹجک معاہدہ اس بات کا اشارہ تھا کہ پاکستان خطے کے سکیورٹی انتظامات میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتا ہے اور ریاض کے ساتھ تعلقات کو محض معاشی نہیں بلکہ دفاعی جہت بھی دینا چاہتا ہے۔

اس تصویر ایک اور رخ بھی ہے۔ متعدد عرب ریاستوں نے بھی بھارت کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سکیورٹی روابط کو وسعت دی ہے۔ بھارت ایک بڑی منڈی، توانائی کا بڑا خریدار اور ٹیکنالوجی و دفاعی تعاون کا ابھرتا ہوا شراکت دار ہے، اس لیے خلیج فارس کے ممالک دہلی کے ساتھ تعلقات کو تزویراتی اہمیت دے رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اسلام‌آباد کو اپنے معاشی مفادات، مذہبی و ثقافتی روابط اور سکیورٹی ترجیحات کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم کرنا پڑے گا۔

پاکستانی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مستقبل کی حکمتِ عملی یک طرفہ انحصار سے نکلنے میں ہے۔ ان کے مطابق علاقائی اقتصادی تعاون کو وسعت دینا، خاص طور پر ایران، ترکی، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط کو مضبوط کرنا، پاکستان کو زیادہ متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ایران-اسرائیل کشیدگی اور پاکستان پر اثرات

ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اس پوری تزویراتی بساط میں ایک اہم عنصر ہے۔ ایک طرف امریکہ کی جانب سے تہران کے خلاف ممکنہ عسکری اقدام کی دھمکیاں سامنے آتی رہی ہیں، اور دوسری طرف اسرائیل ایران کی میزائل صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ کو مکمل طور پر محدود کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان نے نسبتا متوازن پالیسی اپنانے کی کوشش کی ہے اور ہر سطح پر سفارتی حل اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔

اسلام‌آباد بخوبی آگاہ ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی براہ راست تصادم میں بدلتی ہے تو اس کے سکیورٹی اور معاشی اثرات پاکستان تک ضرور پہنچیں گے۔ سرحدی استحکام، توانائی کے ممکنہ منصوبے، تجارتی راستے اور داخلی سلامتی سب اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے خطے میں بیک وقت جاری بحرانوں کے دوران بھارت اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی قربت پاکستان کے لیے سفارتی گنجائش کو محدود کر سکتی ہے۔

غزہ جنگ کے سائے میں اسٹریٹجک رقابت

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ کی جنگ بدستور جاری ہے اور عالم اسلام کی رائے عامہ اسرائیلی اقدامات پر شدید غصے کا اظہار کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا تک ابیب کا دورہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں بہت سوں کی نظر میں فلسطینی عوام کے مصائب کو نظرانداز کرنے کے مترادف سمجھا گیا۔ اسرائیل کو ایسے وقت میں سفارتی سطح پر تقویت دینا، جب اسے ںنہتے شہریوں پر حملوں کے الزامات کا سامنا ہو، ایک علامتی پیغام بھی رکھتا ہے۔

یہ معاملہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے عالم اسلام میں بھارت کے تاثر پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو وسعت دے کر عالمی تنقید سے پیدا ہونے والی سفارتی تنہائی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اتحاد بعض اوقات سفارتی ڈھال کا کام بھی دیتے ہیں۔

حاصل سخن

مودی کا دورہ تل‌ ابیب ایک ایسے اتحاد کی گہرائی کی علامت ہے جو جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سکیورٹی توازن کو متاثر کرسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ بھارت اسرائیلی تعاون سے اپنی دفاعی صلاحیت بڑھا لے، بلکہ یہ بھی ہے کہ انٹیلی جنس اور سیاسی سطح پر ایسا مربوط نیٹ ورک تشکیل پاسکتا ہے جو اس کے مفادات کے خلاف استعمال ہو۔

اس کے باوجود اسلام‌آباد کے پاس اپنے وسائل اور امکانات موجود ہیں؛ بعض عرب ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات، علاقائی طاقتوں سے اسٹریٹجک روابط اور اس کی جغرافیائی اہمیت اسے سفارتی وزن فراہم کرتی ہے۔ فیصلہ کن عنصر یہی ہوگا کہ پاکستان کس مہارت سے بھارت کے ساتھ رقابت کو سنبھالتا ہے؛ علاقائی توازن برقرار رکھتا ہے اور بدلتی ہوئی صف بندیوں میں اپنے مفادات کا دفاع کرتا ہے؟ دہلی اور تل ابیب کی قربت محض ایک دوطرفہ تعاون نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی مقابلے کا حصہ ہے، جس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر پڑسکتے ہیں۔

Scroll to Top