نائب امریکی صدر “جے ڈی وینس” نے کہا کہ “ڈونلڈ ٹرمپ”، ایران کے جوہری مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے كہا كہ معاملہ بہت سیدھا ہے۔
وہ یہ كہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر وہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہمارے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔
درحقیقت ہمارے پاس ایسے شواہد ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ایران، ایٹم بم کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ لہٰذا، امریکی صدر نے مذاکرات کاروں کو جنیوا بھیجا ہے تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ مزاید برآں کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتے ہیں مگر اُن کے سامنے طاقت کا آپشن بھی موجود ہے۔
جے ڈی وینس نے ان خیالات کا اظہار فاکس نیوز سے گفتگو میں کیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ آج جنیوا میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ واضح رہے کہ “تہران” اور “واشنگٹن” کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری 2026ء کو “مسقط” میں منعقد ہوا، جہاں دونوں ممالک کے مذاکراتی وفود نے “عمان” کے وزیر خارجہ “بدر البوسعیدی” کے ذریعے ایک دوسرے تک اپنے خیالات، تحفظات اور نقطہ نظر کا ایک سلسلہ پہنچایا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور 17 فروری 2026ء کو “سوئٹزر لینڈ” کے شہر “جنیوا” میں منعقد ہوا، جو تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کی شدید سفارتی کوششوں کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
مذاکرات کا یہ دور بھی پچھلے ادوار کی طرح بالواسطہ اور سلطنت عمان کی ثالثی میں ہوا۔ آج بھی ان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور، عمان ہی کی ثالثی میں جنیوا میں منعقد ہونا ہے