پاکستان فوج نے بدھ کو بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گذشتہ کئی دنوں کے دوران خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں مختلف کارروائیوں میں 34 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’24 فروری 2026 کو خیبر پختونخوا میں چار مختلف جھڑپوں کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 26 جبکہ بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں ایک کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے وابستہ آٹھ خوارج مارے گئے۔‘
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تیز رفتار اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کیں، جو ’انڈین سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان‘ کے خلاف جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں۔
عسکریت پسندی پاکستان کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی نگرانی تنظیم اے سی ایل ای ڈی کے مطابق 2022 کے بعد ہر سال حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2022 میں 658 عسکریت پسند حملے ہوئے جن میں 2025 میں تقریباً چار گنا اضافہ اور 2,425 حملے ہوئے جبکہ اسی عرصے میں ٹی ٹی پی کے حملے 118 سے بڑھ کر 838 ہو گئے، جو سات گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔
پاکستان فوج نے بدھ کو اپنے بیان میں خفیہ معلومات پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات بھی بتائی ہیں۔
ضلع بنوں کے علاقے نرمی خیل میں دو الگ جھڑپوں میں 10 جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی میں 12 عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پانچویں کارروائی بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں کی گئی، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے آٹھ عسکریت پسندوں کو مارا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت ’عزمِ استحکام‘ وژن کے مطابق انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ’بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے‘۔