فرعون کے مقابل موسیٰ۔۔۔ امام خامنہ ای!ارشاد حسین ناصر کی خصوصی تحریر

تحریر: ارشاد حسین ناصر

دنیا بھر کی توجہ ایک بار پھر امریکہ، ایران کشیدگی پر مرکوز ہوچکی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں بحری بیڑوں اور کثیر فوجی تعیناتیوں نیز مختلف عرب ہمسایہ ممالک میں فوجی بیسز پر ہونے والی نقل و حرکت نیز صدر ٹرمپ اور امریکی وزراء کے تند و تیز بیانات کے بعد دنیا کو یہ لگنے لگا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر ایران کو نشانہ بنانے پر تل چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ اس کو جب بھی کوئی کمزور نظر آیا ہے، اس نے اسے ہڑپ کرنے اور سبق سکھانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ بدمعاش کسی محلے کا ہو یا کسی ملک کا، یہ شاید اس کی نفسیاتی صورتحال ہوتی ہے کہ جہاں سے ری ایکشن کا خطرہ ہو، وہاں سے بچ کر نکلتا ہے، جبکہ کمزور اور بے بس کے اوپر پورا زور لگا دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں بھی بہت سے نامور لوگ بتائے جاتے ہیں کہ فلان اتنا بہادر تھا کہ اس کے اسلام لانے کے بعد فلاں کام ہونے لگا اور اس کے رعب کی وجہ سے شیطان بھی بھاگ جاتا ہے، مگر حقیقت میں ایسے کسی کردار کا کسی بھی معروف جنگ میں کہیں کوئی کارنامہ نہیں ملتا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو سینتالیس برس سے زیر کرنے کیلئے پورا زور لگا چکے ہیں، ہر حربہ استعمال کیا ہے، جنگیں مسلط کیں، اندرونی تخریب کاریاں، دہشت گرد گروہ تیار کیے۔ اہم ترین شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، تاریخ کی سخت ترین اقتصادی پابندیاں لگائیں، جو سینتالیس برس سے جاری ہیں۔ دھمکیاں، ڈرانا، دھمکانا، ایران کے ہر طرف اس کے ہمسائے عرب ممالک میں فوجی بیسز کا قیام، ایران کے نام پر اسلامی مملکتوں کو ڈرا دھمکا کر خوف دلا کر اپنے اسلحہ کے کارخانے چلوائے ہوئے ہیں۔

عربوں سے ارب ہا ڈالرز کے معاہدے اور تاوان لینا، جبکہ ایران تنہاء اور پابندیوں کا شکار ملک ہے۔ بس ایران کا ایک ہی کام سب منصوبوں پر بھاری ہے، وہ اس کی بے خوف قیادت اور اپنی ملت کا سر نا جھکنے دینے کا عزم ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کو عملی طور پر ایران نے شکست دی ہے۔ ایران نے اپنے قیمتی ترین لوگوں کی جانوں کی پروا نہیں کی، مگر اپنی استقامت، اپنی حمیت، اپنی غیرت اور اپنی آزادی پر آنچ نہیں آنے دی۔

ایران جانتا ہے کہ اس کا جھک جانا، اسرائیل کی نابودی کی آخری امید کا ٹوٹ جانا ہے۔

ایران جانتا ہے کہ اس کا جھک جانا، امت مسلمہ کے مجاہدین کے خوابوں کا بکھر جانا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ اس کا استعمار جہاں کے سامنے سرنگوں ہونا، دراصل یزید کی طاقت و قوت کو تسلیم کرنا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ فاسق و فاجر کا مسلط ہو جانا، اس کی طاقت کو تسلیم کرنا اور اسوہ حسنہ سے منہ موڑنا ہے۔

ایران جانتا ہے کہ یزید وقت کے سامنے سر جھکانا، حریت، آزادی، استقامت، مزاحمت، مقاومت کے چراغوں جن کو لاکھوں شہداء کے خون سے روشن گیا ہے، ان کا بجھ جانا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ امریکہ کے سامنے گردن جھکانے کا مطلب معافی نہیں بلکہ گردن زدنی اور نشان عبرت بن جانا ہے۔ ایران جانتا ہے کہ امریکہ وقت کا فرعون اور یزید وقت ہے، جس کا مقابلہ اسوہ حسینی سے ہی کرنا ہے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ ایران کی قیادت نے جھکنے کی بجائے ہر ایک محاذ پر بھرپور طریقہ سے اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے جوابی کارروائی سے دشمن کو حیران و ششدر کیا ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ” ۖ ۚ‏ ٦٢ “آگاہ ہوجاؤ ! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔” اللہ والوں کو دنیاوی طاقت، بحری بیڑوں، جنگی جہازوں، افواج کی کثرت و جدت اور طاقت و قوت اور اسلحہ کے انباروں سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ اس کا واضح ثبوت گذشتہ سینتالیس برس ہیں اور موجودہ حالات میں ٹرمپ اور اس کے وزیر مشیر بھی اپنی بے بسی کا اظہار کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان کا خیال تھا کہ ہر طرف سے امریکی ملٹری بیسز کی موجودگی اور جنگی تیاریوں کی خبروں کیساتھ بحری بیڑوں کی آمد کیساتھ ہی ایران فوری جھک جائے گا اور مذاکرات میں اس سے سب کچھ منوا لیا جائے گا، مگر اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں نے ان کو ناصرف مایوس کیا بلکہ حیرت زدہ کر دیا اور ان کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا، جس کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔ “كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ“۔ “بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔” (249) سورہ البقرہ

جمہوری اسلامی ایران کی قیادت و رہبری کو اگر کسی چیز پر بھروسہ ہے تو وہ اللہ کی طاقت و قدرت ہے۔ اسی یقین اور ایمان کیساتھ ہی مملکت اسلامی آج تک آگے بڑھی ہے اور دشمنوں کی آنکھوں میں چبھتی آرہی ہے۔ دشمن کو بخوبی علم ہے کہ اللہ کے خاصان کی یہ سنت ہے کہ وہ موت سے نہیں گھبراتے، مشکلات و مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور راہ حق میں چلتے ہوئے ہر قدم پر انہیں موت کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ان کیلئے موت کو آگے بڑھ کر گلے لگانے کا رواج ہے۔ شہادت ان کی میراث اور فخر ہے۔

لہذا اپنے خون کے غسل سے موت کو نکھار بخشتے ہیں۔ یہی کربلا کا راستہ ہے۔ یہی حق والوں کا شیوہ ہے۔ یہی سیرت ہے، یہی اسوہ ہے، یہی عزت و شرف ہے۔ یہ عز و شرف ہر ایک کے نصیب میں نہیں آتی بلکہ اس کا میرٹ ہوتا ہے۔ اس کا معیار ہوتا ہے، اس کیلئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

استعمار اور اس کے نمک خوار اس لطف سے محروم ہیں۔ لہذا ان پر لرزہ طاری رہتا ہے، خوف و ڈر ان کی زندگیوں میں شامل رہتا ہے۔ دنیا بھر کے مخلصین و مجاہدین اس وقت ولی امر المسلمین امام خامنہ ای کے حکم کی اطاعت کیلئے بے قرار ہیں۔

ان کے اشارہ ابرو کے منتظر ہیں۔ دشمن کو جان لینا چاہیئے کہ رہبر معظم انقلاب کا حکم ولی فقیہ کا حکم ہے، جس کی اطاعت میں کسی بھی حد کو کراس کرنا پڑے تو گریز نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلئے نا فقط اہل ایران، نا فقط اہل لبنان، نا فقط اہل یمن، نا فقط اہل عراق بلکہ پاکستان سمیت ہر گوشہ و کنار کے جوانان و بزرگان و خواہران اپنی جانوں کو قربان کرنے کیلئے ہر دم تیار ہیں۔

Scroll to Top