بھیرہ تھانے کے ملحقہ گاوں کی معروف مذہبی درسگاہ جامعہ مسجد غوثیہ بھیرہ میں لاوڈ اسپیکر پر چندہ اپیل کرنا امام مسجد کو مہنگا پڑ گیا۔ پولیس نے امام و خطیب حافظ مشتاق احمد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، جس کے بعد علاقے میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر چندہ مانگنا جرم کیسے بن گیا؟
پولیس ذرائع کے مطابق امام مسجد نے مبینہ طور پر صوبائی حکومت کی جانب سے عائد کردہ لاوڈ اسپیکر پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد کے ساؤنڈ سسٹم پر چندہ جمع کرنے کی اپیل کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ضابطہ کار کے تحت لاوڈ اسپیکر کا استعمال صرف اذان اور خطبہ جمعہ تک محدود ہے، جبکہ کسی بھی قسم کی مالی اپیل یا اعلانات پر پابندی عائد ہے۔ اسی بنیاد پر متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
دوسری جانب مقامی نمازیوں اور اہلِ علاقہ کا مؤقف ہے کہ مسجد کی تعمیر و مرمت اور دینی سرگرمیوں کے لیے چندہ مانگنا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ برسوں سے یہی طریقہ کار رائج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو پہلے تنبیہ کی جاتی، فوری مقدمہ درج کرنا سخت اقدام ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے میں لاوڈ اسپیکر ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی ضابطوں کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا مساجد کے لیے بھی وہی سختی برتی جا رہی ہے جو دیگر اجتماعات کے لیے کی جاتی ہے؟
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو واضح پالیسی سامنے لانی چاہیے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔ واقعے کے بعد بھیرہ میں مذہبی و سماجی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور معاملہ مزید طول پکڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔